ویب ڈیسک:امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے شام کے اوقات میں زیادہ دیر تک قدرتی روشنی کی فراہمی اور توانائی کی بچت کرنے کیلئےبنائے گئے’’سن شائن پروٹیکشن ایکٹ 2025‘‘ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا، جس کے تحت ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل بنانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اگر امریکی سینیٹ بھی اس بل کی منظوری دے دیتی ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس پر دستخط کر دیتے ہیں تو امریکہ میں سال میں دو مرتبہ گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا نظام ختم ہو جائیگا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں سال میں 2 مرتبہ گھڑیاں آگے اور پیچھے کرنے کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے ’’سن شائن پروٹیکشن ایکٹ 2025‘‘ کو 117ے مقابلے میں308 ووٹوں سے منظور کر لیا، جس کے بعد اب یہ بل منظوری کیلئے امریکی سینیٹ کے پاس جائیگا۔اگر سینیٹ بھی اس بل کی منظوری دے دیتی ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس پر دستخط کر دیتے ہیں تو امریکہ میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (DST) مستقل بنیادوں پر نافذ ہو جائلگا اور ہر سال مارچ اور نومبر میں گھڑیاں تبدیل کرنے کی روایت ختم ہو جائے گی۔
امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کردہ مجوزہ قانون کے مطابق نومبر میں گھڑیاں دوبارہ سٹینڈرڈ ٹائم پر واپس نہیں لائی جائیں گی، جبکہ ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہیں تو مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم اختیار کریں یا اس سے استثنا برقرار رکھیں۔امریکی ریاست ہوائی اور ایریزونا پہلے ہی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم پر عمل نہیں کرتے۔امریکی کانگریس کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ’’سن شائن پروٹیکشن ایکٹ 2025‘‘ ایچ آر 139 کا مقصد ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل وقت کے نظام میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ جن ریاستوں کو پہلے سے استثنا حاصل ہے، وہ اپنے موجودہ معیاری وقت کو برقرار رکھ سکیں گی۔ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا بنیادی مقصد شام کے اوقات میں زیادہ دیر تک قدرتی روشنی فراہم کرنا اور توانائی کی بچت کرنا ہے۔ امریکا کے تحقیقی ادارے EBSCO کے مطابق اس نظام سے نہ صرف توانائی کی کھپت میں کمی آتی ہے بلکہ بعض مطالعات میں ٹریفک حادثات میں کمی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ایوان کی انرجی اینڈ کامرس کمیٹی اس بل کی پہلے ہی بھاری اکثریت سے حمایت کر چکی تھی اور2024 میں امریکی سینیٹ بھی متفقہ طور پر اسی نوعیت کی قانون سازی منظور کر چکی تھی، تاہم اس وقت ایوانِ نمائندگان میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ قانون نافذ نہیں ہو سکا تھا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے کے نظام کے مخالف رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ ’’ریپبلکن پارٹی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی کیونکہ سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنا عوام کیلئے تکلیف دہ اور حکومت کیلئے مہنگا عمل ہے۔ انہوں نے ایک اور بیان میں شام کے اوقات میں زیادہ دیر تک روشنی برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گھڑیوں کی بار بار تبدیلی ختم ہونی چاہیے۔
ایوانِ نمائندگان سے بل کی منظوری کے بعد وہائٹ ہاؤس نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے سے وابستہ وقت، اخراجات اور عوامی پریشانی کا خاتمہ ہوگا اور امریکی شہریوں کے کروڑوں ڈالر کی بچت ممکن ہوگی۔ تاہم اس تجویز پر اختلافی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے نتیجے میں موسم سرما میں سورج بہت دیر سے طلوع ہوگا، جس کے باعث امریکہ کے کئی علاقوں میں بچوں کو اندھیرے میں اسکول جانا پڑے گا، جو حفاظتی اعتبار سے تشویشناک ہے۔
دوسری جانب ریپبلکن رکنِ کانگریس رابرٹ ایڈرہولٹ نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سال میں دو مرتبہ وقت کی تبدیلی برسوں سے خاندانوں، کاروباری اداروں اور ملازمین کیلئے پریشانی کا باعث رہی ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بچوں کی حفاظت ایک اہم مسئلہ ہے اور اگر مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ ہوتا ہے تو اسکولوں کے اوقات، بس سروس اور دیگر انتظامات پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے تاکہ طلبہ کو اندھیرے میں سفر نہ کرنا پڑے۔اس بل پر امریکی فضائی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ’’ائیرلائنز فار امریکا ‘‘ے خبردار کیا ہے کہ وقت کے نظام میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات فضائی آپریشن، بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول، عملے کی تعیناتی اور عالمی رابطہ نظام پر بھی مرتب ہونگے۔