ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا

لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے مجسٹریٹ کی جانب سے ایک ملزم کو مقدمے سے رہا کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مجسٹریٹ قانون کے تحت ملزم کو "ریلیز" نہیں بلکہ صرف "ڈسچارج" کر سکتا ہے۔

جسٹس عبہر گل خان نے شہری محمد عابد کی درخواست پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ چالان میں ملزم کے خلاف بادی النظر میں شواہد موجود تھے، اس لیے ٹرائل شروع ہونے سے پہلے مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ مجسٹریٹ نے ٹرائل سے قبل شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا، جبکہ اس مرحلے پر صرف یہ دیکھا جانا تھا کہ ٹرائل چلانے کے لیے کافی مواد موجود ہے یا نہیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ تحریری معاہدے یا ملکیت کے تنازع جیسے نکات کا تعین ٹرائل کے دوران کیا جائے گا۔ عدالت نے گاڑی میں خیانتِ مجرمانہ کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے 31 مارچ 2026 کا حکم نامہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔