ویب ڈیسک:ماہرین کہتے ہیں کہ بھنڈی ایک سپر فوڈ ہے جسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،اس میں بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔
بھنڈی میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہے جبکہ اس میں موجود فائبر کی بھرپور مقدار پورے جسم پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھنڈی آنکھوں سے لے کر آنتوں تک کی حفاظت کرتی ہے۔
خون میں شکر معمول پر رکھے
ذیابیطس کے مریض بھنڈی کھائیں کیونکہ اس میں فائبر کی اچھی مقدار ہوتی ہے۔ پھر کاربوہائیڈریٹس کے انجذاب کو سست کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کھانے سے خون میں شکر کی مقدار بلند نہیں ہوتی۔
آنتوں اور نظامِ ہاضمہ کی حفاظت
بھنڈی میں پائے جانے والے ریشے کسی ٹانک سے کم نہیں اور اسے کھانے سے معدے کے حرکات (باوِل موومنٹ) بہترہوتی ہے اور قبض کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آنتوں کی مجموعی صحت بھی برقراررہتی ہے۔ بھنڈی نظامِ ہاضمہ کو درست کرتے ہوئے جگر کو فعال رکھتی ہے اور یوں کوئی بھی غذا کھائی جائے وہ اچھی طرح بدن کا حصہ بن جاتی ہے۔
وزن کم کرنے میں مددگار
بھنڈی کم حراروں اور زائد فائبرکی وجہ سے بھوک کم کرتی ہے اور یوں وزن کم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے میں بھنڈی ضرور شامل کیجیے۔
آنکھوں کے لیے مفید
بھنڈی میں وٹامن اے، لیوٹین اور زیکزینتھین کی موجودگی اسے آنکھوں کے لیے انتہائی مفید بناتی ہے۔ اسی لیے بھنڈی کھانے سے بڑھاپے میں نظرکی کمزوری کم کی جاسکتی ہے۔ ان میں نگاہ کی عام کمزوری سے لے کر ایج ریلیٹڈ میکولرڈی جنریشن بھی شامل ہے۔
دل کیلئے مفید
پیکٹن نامی عنصر ایک مفید کیمیائی شے ہے جو بھنڈی میں پایا جاتا ہے۔ اس کی مناسب مقدار خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے۔ اس طرح خون کی روانی جاری رہتی ہے، بلڈ پریشر نہیں بڑھتا اور یوں دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔