(ویب ڈیسک) آسٹریلیا کے سابق کپتان اور معروف لیگ سپنر شین وارن کی موت کو 4سال کا عرصہ بیت گیا ہے، لیکن ایک بار پھر انکی المناک موت کی وجوہات پر بحث چھڑ گئی ہے، 52 سالہ شین وارن 2022 میں تھائی لینڈ میں ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کے بیٹے جیکسن وارن نے کہا کہ ان کے خیال میں کووڈ-19 ویکسین ان کی موت کی وجہ بنی، اگرچہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے والد کو کچھ صحت کے مسائل لاحق تھے۔
Shane Warne's son has spoken out about his father’s death.
— Ben Fordham Live (@BenFordhamLive) April 13, 2026
Jackson Warne claims the COVID vaccine played a role in the cricket legend’s passing.
He says "I definitely think it was involved.”
Listen to the details HERE.
https://t.co/SRNPdWlnVE pic.twitter.com/s7WYM4f2H8
جیکسن وارن کے مطابق والد کی موت کی خبر ملتے ہی انہوں نے حکومت اور ویکسین کو موردِ الزام ٹھہرایا تاہم بعد میں اپنے خیالات کو عوامی سطح پر بیان نہ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ شین وارن نے متعدد ویکسین ڈوزز لی تھیں حالانکہ وہ اس کے خواہشمند نہیں تھے بلکہ پیشہ ورانہ تقاضوں کے باعث ایسا کرنا پڑا۔
جیکسن کا کہنا تھا کہ وہ اب ان خیالات پر زیادہ غور نہیں کرتے کیونکہ اس سے غصہ بڑھتا ہے،انہوں نے اپنے والد کو ایک خوش اور بہتر حالت میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی کچھ بری عادات تھیں لیکن وہ مجموعی طور پر اچھی زندگی گزار رہے تھے۔