عسکری الیون میں تین بچوں کا قتل، معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا


(یاور چودھری، زبیر عباس) عسکری الیون میں تین بچوں کے قتل کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا۔ مرکزی ملزم حسنین مصطفیٰ کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالےکر دیا گیا۔ کمسن مقتول بچوں کے لواحقین نے پولیس پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔

سٹی 42 کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پولیس نے شریک ملزم حسنین مصطفیٰ کو پیش کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزم نے بچوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے کپڑے بھی تبدیل کیے تھے۔ عسکری الیون اور عسکری الیون سیکٹر سی کے درمیان فاصلہ 5 کلو میٹر کا ہے۔ بچوں کی والدہ کے الزام کے باوجود پولیس نے جان بوجھ کر مرکزی ملزم حسنین مصطفی کو پہلے گرفتار نہیں کیا۔ پولیس نے پہلے کہاکہ واقعہ کی فوٹیج موجود ہے۔29 مارچ کو کہاکہ ان کے پاس فوٹیج موجود نہیں ۔ملزم کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

تفصیل جاننے کیلئے یہ خبر پڑھیں۔۔ تین معصوم بچوں کو قتل کرنے والی سنگدل ماں کا نیا بیان سامنے آگیا

 عدالت میں مقتول بچوں کے لواحقین نے عدالت میں کہاکہ پولیس تفتیش ٹھیک نہیں کر رہی ہے۔ عدالت نے پولیس کو لواحقین کے ساتھ تعاون کرنے اور پیش کیے گئے ثبوتوں کو پولیس ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا۔

خبر پڑھیں۔۔۔وجہ غربت یا کچھ اور،امرسدھو کا رہائشی محبوب اپنی ہی جان کا دشمن بن گیا

دوسری جانب انکشاف ہوا ہے کہ جب دو بچوں کو قتل کیا گیا تو 8 سالہ زین گھر کے باہر دکان سے ٹافیاں لینے گیا تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کو مل گئی ہے۔ پوسٹمارٹم کے دوران بچے کے معدے سے بھی ٹافیوں کے ثبوت ملے ہیں۔

واضح رہے کہ عسکری الیون میں 24 مارچ کو گھر میں سوئے ہوئے 3معصوم بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا، جن میں 10 سالہ زین العابدین، 60 سالہ کنیز فاطمہ اور 4 سالہ ابراہیم شامل تھے۔ پولیس نے انیقہ کے سابق شوہر قیصرامین باجوہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش کے لیے بچوں کی والدہ اوراسکے آشنا حسین مصطفیٰ کو گرفتار کر لیا تھا۔