ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت کی ایک اور پہاڑی ریاست میں سیلاب، اربن فلڈنگ اور لینڈسلائیڈنگ کے حادثات

Manipur Flood, City42, Monsoon2025, Climate Change , Flash Flood, Imphal Flash Flood
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارت کی ایک اور پہاڑی ریاست میں اچانک شروع ہونے اور 24 گھنٹے مسلسل رہنے والی بارش سے سیلاب آ گیا۔ 

منی پور کے دارالحکومت امپھال میں فلیش فلڈ آ گیا اور کئی علاقوں سے لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے انہیں گھروں سے نکالنا پڑا۔

منی پور میں موسلا دھار بارش کے بعد اچانک سیلاب اور زمین کھسکنے سے کئی علاقے زیرِ آب، گھروں کو نقصان پہنچنے کی خبریں بھارتی میڈیا میں شائع ہو رہی ہیں۔
منی پور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کی موسلا دھار بارش کے بعد اچانک سیلاب اور زمین کھسکنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ متعدد علاقوں میں گھروں کے نچلے حصے زیرِ آب آئے، انتظامیہ نگرانی تیز کر رہی ہے۔ 

منی پور مین اس سال برسات کے آغاز میں جون کے ابتدائی دنوں مین بھی سیلاب آیا تھا جس میں  30 کے لگ بھگ جانوں کا نقصان ہوا تھا۔

منی پور  بھارت کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس کی جنوب مشرق میں میانمار کے ساتھ بین الاقوامی سرحد ملتی ہے اور اس کی سرحد شمال میں ناگالینڈ، مغرب میں آسام اور جنوب میں میزورم سے ملتی ہے۔
منی پور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی زبردست بارشوں کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور زمین کھسکنے کے متعدد واقعاست رونما ہوئے ہیں۔

ریاست کی انتظامیہ نے اتوار کو بتایا کہ امپھال ایسٹ کے یین گانگ پوکپی، سنتی کھونگ بل اور سبونگ کھوک کھونو اور امپھال ویسٹ کے کاکوا اور ساگول بند کے علاقوں میں بارش کے پانی نے متعدد مقامات کو ڈھانپ دیا۔ مسلسل بارش کا پانی  ڈرینیج سسٹم سے سنبھالا نہین جا سکا اور کئی گھروں اور رہائشی احاطوں میں پانی داخل ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ کچھ گھروں کے نچلے حصے مکمل طور پر زیرِ آب آگئے اور بجلی اور رابطہ متاثر ہونے سے امدادی کارروائیاں مشکل ہو رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ریاست کے بیشتر حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں درمیانی سے شدید بارش ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے ندی نالوں کا پانی تیزی سے بڑھا۔ پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ندیوں کے  کنارے آباد بستیاں خطرے میں آ گئیں تاہم حکام کے مطابق اہم ندی نالوں مثلاً امپھال، نَمبل اور ایرِل کا پانی ابھی تک خطرے کی سطح تک نہیں پہنچا مگر صورتحال مسلسل نظر میں رکھی جا رہی ہے۔

پہاڑی اضلاع میں زمین کھسکنے اور تودے گر آنے کے واقعات خاص طور پر پریشان کن رہے۔ نونی ضلع کے آوانگ کھول، سناپتی اور کامجونگ میں مختلف مقاموں سے لینڈ سلائیڈ کی اطلاعات آئیں جن کے نتیجے میں سڑکوں اور آمد و رفت کے راستوں پر مٹی کے تودے آ گرے اور کچھ جگہوں پر رابطے منقطع ہوگئے۔ انتظامیہ نے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
واٹر ریسورسز ڈیپارٹمنٹ نے چشمہ پھاٹکوں اور ڈیموں کی نگرانی بڑھا دی ہے اور ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے میں تعاون کریں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی رضاکار متاثرہ مقامات پر پہنچ کر امدادی کام کر رہے ہیں اور بچاؤ کے لیے روڈ کلئیرنس اور پانی نکاسی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بارش کے سبب کئی دیہی راستوں پر پانی بھرنے سے زرعی کام متاثر ہوئے اور مقامی کسان اپنی فصلوں کے ممکنہ نقصان کے بارے میں پریشان ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی امدادی کیمپ مرتب کرنے کے انتظامات شروع کر دیے ہیں تاکہ جن لوگوں کو اپنے گھروں کو خالی کرنا پڑے وہ محفوظ قیام گاہوں تک پہنچائے جا سکیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ موسمیاتی تغیرات Climate Change کے سبب یہاں بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے جس کے پیشِ نظر طویل المیعاد منصوبہ بندی اور رسک مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔

 فی الحال انتظامیہ کا فوکس فوری بچاؤ، متاثرین کی رہنمائی اور ممکنہ اضافی بارش کی صورت میں خطرات کو کم کرنا ہے۔