فی الحال ویکسین کی بوسٹر ڈوز لگوانے کی ضرورت نہیں، ماہرین کی رائے

فی الحال ویکسین کی بوسٹر ڈوز لگوانے کی ضرورت نہیں، ماہرین کی رائے
Booster Dose

ویب ڈیسک: کورونا وائرس کی شدت پر قابو پانے کے لیے ویکسین لگوانا کافی ہے جبکہ بوسٹر خوراک کی فی الحال ضرورت نہیں۔ سائنسدانوں نے جدید ترین تحقیق کے بعد اعلان کردیا۔

رپورٹ کے مطابق سائنسی میگزین ’دی لانسے‘ میں شائع ہونے والی ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ عام عوام کو ویکسین کی بوسٹر خوراک لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یادرہے کہ چند ممالک نے بھارتی ڈیلٹا ویرئنٹ کے خدشے کے باعث ویکسین کی اضافی خوراکیں بھی لگانا شروع کر دی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی سائنسدان اینا ماریو کا کہنا ہے کہ کسی بھی شدید بیماری کے خلاف تحفظ میں ویکسین کی افادیت کم ہونے کا کوئی معتبر ثبوت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سب سے پہلی ترجیح ان افراد کے لیے ویکسین فراہم کرنے کی ہونی چاہیے جنہیں ابھی تک نہیں لگ سکی۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ وائرس کی نئی اقسام پیدا ہونے کی صورت میں موجودہ ویکسین کی تیسری خوراک لگانے سے بہتر ہے کہ نئے ویرئنٹ کے مطابق ویکسین بوسٹرز تیار کیے جائیں, جو پھر لوگوں کو لگائے جائیں۔

فرانس میں عمر رسیدہ افراد اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو ویکسین کی تیسری خوراک لگانا شروع کر دی ہے جبکہ اسرائیل میں بارہ اور زیادہ عمر کے بچوں کو دوسری خوراک لگانے کے پانچ ماہ بعد تیسری خوراک لگائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف لندن کے ایمپیریل کالج میں متعدی بیماریوں کے ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ عذرا غنی کا کہنا ہے کہ بوسٹر ویکسین کے معاملے پر کوئی ایک نقطہ نظر نہیں اپنایا جا سکتا۔

اقوام متحدہ نے تمام ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر تک اپنی 10 فیصد آبادی جبکہ 40 فیصد کو سال کے آخر تک ویکسین لگا لیں۔