ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  بی بی سی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی مانگ لی

BBC vs Trump, City42, Apology , Directer General BBC resigns
کیپشن: بی بی سی نے اپنی ایک ڈاکیومنٹری ""پینورام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے  6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کو امریکہ کی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لئے اکسایا تھا، اس ڈاکیونٹری میں صدر ٹرمپ کی تقریر کی ویڈیو کو اس طرح ایدٹ کیا گیا کہ وہ اس الزام کو تقویت دیتی دکھائی دی۔ ٹرمپ نے اس ویڈیو ایڈٹ کو لے کر بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کے مقدمہ کی دھمکی دی تھی، آج بی بی نی نے اپنی "غلطی" کو تسلیم کر کے معافی مانگ  لی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بی بی سی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دی ہوئی مہلت ختم ہونے سے پہلے ٹرمپ سے معافی مانگ لی۔

بی بی سی کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط بھیجا جس میں ان کی ایک تقریر کی گمراہ کن ترمیم پر معذرت کی گئی تھی، لیکن بی بی سی نے اس ویڈیو ایڈٹ کی بنیاد پرہتکِ عزت کے مقدمہ کو مسترد کر دیا۔ 

بی بی سی کے  ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کی  ایک پرانی تقریر کے جانبدارانہ ویڈیو ایڈٹ نے ایک طوفان برپا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور  ایک سینئیر نیوز  ایگزیکٹو نے اتوار کو استعفیٰ دے دیا تھا۔  اور ٹرمپ کے وکلاء کی جانب سے 1 بلین ڈالر کا مقدمہ چلانے کی دھمکی دی گئی۔

اس سے پہلے پیر کے روز، بی بی سی نے پچھلے سال نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں یہ تاثر دینے پر ٹرمپ سے معذرت کی تھی کہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ذریعہ امریکی کیپیٹل پر حملے سے عین قبل براہ راست "پرتشدد کارروائی" پر زور دیا تھا۔

برطانیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ بی بی سی کے چیئر سمیر شاہ نے "وائٹ ہاؤس کو ایک ذاتی خط بھیجا ہے جس میں صدر ٹرمپ کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ اور بی بی سی کارپوریشن ، صدر کی تقریر میں ترمیم پر معذرت خواہ ہیں"۔

تاہم، بی بی سی نے مزید کہا: "اگرچہ بی بی سی اس ویڈیو کلپ کو ایڈٹ کرنے کے طریقے پر دلی طور پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، لیکن ہم اس بات سے سختی سے متفق نہیں ہیں کہ اس ویڈیو کلپ ( کو غلط طریقہ سےایڈٹ کرنے)  کی وجہ سے ہتک عزت کے دعوے کی بنیاد موجود ہے۔"

بی بی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی کے وکلاء نے جواب میں ٹرمپ کی قانونی ٹیم کو خط لکھا ہے۔

چونکہ اکتوبر 2024 میں ٹرمپ پر نشر ہونے والی "پینوراما" دستاویزی فلم کے ارد گرد تنازعہ گھومتا رہا، بی بی سی نے کہا کہ اب وہ امریکی دارالحکومت کے فسادات کے دن سے متعلق ٹرمپ کی تقریر کی ایک اور ترمیم کی تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری ویدیو ایڈٹ میں کیا گڑبڑ تھی؛ ٹیلی گراف کی رپورٹ

ٹیلی گراف اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے  کہ بی بی سی نے جون 2022 میں اپنے "نیوز نائٹ" پروگرام میں ایک اور رپورٹ بھی نشر کی، جس میں ٹرمپ کی تقریر کے مختلف مقامات پر کہے گئے جملے کو ایک ساتھ ایڈٹ کیا گیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ حامیوں کو کیپیٹل جانے اور "جہنم کی طرح لڑنے" پر زور دے رہے ہیں۔

بی بی سی کے ترجمان نے کہا: "یہ معاملہ ہماری توجہ میں لایا گیا ہے اور اب ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔"

بی بی سی کارپوریشن آج کل کڑے وقت سے گزر رہی ہے،  جس کی وجہ رائل چارٹر پر دوبارہ گفت و شنید کرنا ہے جو کارپوریشن کے اندر گورننس کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ اس کا موجودہ چارٹر 2027 میں ختم ہو جائے گا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر اور ان کی حکومت ٹرمپ کے خلاف فریق بننے سے گریز کرتے ہوئے۔ سٹارمر کی حکومت سرکاری برطانوی براڈکاسٹر کی آزادی کی حمایت کرتے ہوئے سخت رویہ اختیار کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی ایک ارب ڈالر ہرجانہ کی وارننگ کی مہلت آج ختم ہوئی

بی بی سی کی طرف سے واضح معافی آج سامنے آنے کی بنیادی وجہ صدر ٹرمپ کی ہرجانہ کا مقدمہ دائر کرنے کے لئے وارننگ تھی جس میں آج 14 نومبر تک مہلت دی گئی تھی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینوراما کی دستاویزی فلم کی ایڈینٹگ کے معاملے پر بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔
صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے بی بی سی کو ڈاکیومنٹری سے ’مکمل اور شفاف لاتعلقی کے اظہار‘ کے لیے 14 نومبر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بصورت دیگر بی بی سی کے خلاف ایک ارب ڈالر مالیت ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔


صدر ٹرمپ کی جانب سے بی بی سی کو موصول ہونے والے خط میں معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بی بی سی صدر ٹرمپ کو اس پر ’معاوضہ‘ ادا کرے۔
خط میں بی بی سی پر ٹرمپ کے خلاف ’جھوٹ پر مبنی، بدنام اور گمراہ کرنے والے نازیبا بیانات‘ لگانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے وکیل کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے امریکی ریاست فلوریڈا کے قوانین کے تحت اُن کی ہتکِ عزت کی ہے۔

Caption بی بی سی کے استعفیٰ دینے والے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی کی تصویر 28 اپریل 2022 کو لندن میں بی بی سی ورلڈ سروس کے دفتر میں لی گئی ہے۔

ٹیلی گراف اخبار نے کہا کہ بی بی سی نے جون 2022 میں اپنے "نیوز نائٹ" پروگرام میں ایک اور رپورٹ بھی نشر کی، جس میں ٹرمپ کی تقریر کے مختلف مقامات پر کہے گئے جملے کو ایک ساتھ ایڈٹ کیا گیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ وہ حامیوں کو کیپیٹل جانے اور "جہنم کی طرح لڑنے" پر زور دے رہے ہیں

Caption بی بی سی کی اس سینئیر نیوز ایگزیکٹو ، ہیڈ آف نیوز ڈیبورا ٹرنَس کو بھی صدر ٹرمپ کے متعلق الزام تراشی کرنے پر استعفیٰ دینا پڑا۔

واقعات اور بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بی بی سی کی "فطرت " ہے لیکن بی بی سی کی مخصوص توڑ پھوڑ کا نشانہ بننے والے صرف تلملا سکتے ہیں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ پاکستان بھی بی بی سی کی مخصوص رپورٹنگ کا مسلسل نشانہ ہے۔  اس کی ایک بلنٹ مثال پاکستان کے علاقہ وانا میں کیڈٹ کالج میں گھس کر  بد ترین نوعیت کی دہشتگردی کرنے والے خارجیوں کی "30 گھنٹے پر محیط کارروائی" کی رپورٹ ہے۔

جب وہ لوگ بچوں کے سکول میں دہشتگردی کرنے کے لئے گھس گئے اور وہاں خودکش حملہ کرنے کے بعد 30 گھنٹے مقابلہ کرنے کے بعد مارے گئے تب بھی بی بی سی نے ڈھٹائی کے ساتھ انہیں "شدت پسند" لکھا، گویا بی بی سی کی ڈکشنری میں "دہشتگرد" لفظ موجود ہی نہ ہو۔ یہ جانبدارانہ رپورٹ بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر موجود ہے، اور بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پاکستان کے متعلق قبلِ اعتراض مواد سے بھری پڑی ہے۔