ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ ان چائنا۔۔امریکی وفد کے اراکین پر جاسوسی کا خوف،فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ دیئے

ٹرمپ ان چائنا۔۔امریکی وفد کے اراکین پر جاسوسی کا خوف،فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ2017 کے بعد پہلی بار چین کے دورے پر گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا یہ پہلا چین دورہ ہے۔  امریکی میڈیا کے دعوؤں سے ٹرمپ کے ساتھ چین گئے افسران پر جاسوسی کا خوف طاری  ہو گیا ہے۔ امریکی وفد کے اراکین اپنے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین گئے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کے چین دورے کے درمیان امریکی میڈیا نے ایک حیرت انگیز خبر شائع کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی افسران کو چین میں جاسوسی کا خوف ستا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وفد کے اراکین اپنے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین گئے ہیں۔ ان کے پاس جو فون اور لیپ ٹاپ ہیں، وہ عارضی ہیں۔ امریکی وفد کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ہر جگہ یو ایس بی کا استعمال نہ کریں۔ امریکی وفد کو بالکل نئے اور خالی فون اور لیپ ٹاپ دیے گئے ہیں۔ ان میں کوئی پرانا ڈیٹا یا ذاتی معلومات نہیں ہے۔ ان ڈیوائس کا استعمال صرف چین دورے کے دوران ضروری بات چیت کیلئے ہوگا۔ دورے کے بعد ان تمام فون اور لیپٹ ٹاپ کو تباہ کر دیا جائے گا یا مکمل طور پر فارمیٹ کر دیا جائے گا تاکہ کوئی وائرس امریکی نیٹ ورک میں نہ آ سکے۔

رپورٹ کے مطابق چینی دورے پر گئے امریکی افسران کے احتیاط کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت نے پہلے ہی مان لیا تھا کہ چین میں ان کے ہر ڈیجیٹل ڈیوائس پر نظر رکھی جائے گی، اسلئے انہوں نے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین جانے کا فیصلہ کیا۔ جو فون اور لیٹ ٹاپ ان کے ساتھ ہیں، وہ صرف وہیں تک استعمال کیلئے ہیں۔ بعد میں اسے فارمیٹ کر دیا جائے گا یا اسے تباہ کر دیا جائیگا۔

واضح رہے کہ 2017 کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ پہلی بار چین کے دورے پر گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا یہ پہلا چین دورہ ہے۔ جمعرات کو بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جنپنگ کے درمیان دوطرفہ میٹنگ ہوئی۔ اس سے قبل ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا۔ جنپنگ کی موجودگی میں انہیں گارڈ آف آرنر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا، اور اس کے متعلق جاری تنازعات کو پرامن رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ ایران جنگ اور تائیوان کو امریکہ کے ذریعہ ہتھیار فروخت کیے جانے جیسے سنگین مسائل پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔