(ویب ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ2017 کے بعد پہلی بار چین کے دورے پر گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا یہ پہلا چین دورہ ہے۔ امریکی میڈیا کے دعوؤں سے ٹرمپ کے ساتھ چین گئے افسران پر جاسوسی کا خوف طاری ہو گیا ہے۔ امریکی وفد کے اراکین اپنے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین گئے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کے چین دورے کے درمیان امریکی میڈیا نے ایک حیرت انگیز خبر شائع کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی افسران کو چین میں جاسوسی کا خوف ستا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وفد کے اراکین اپنے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین گئے ہیں۔ ان کے پاس جو فون اور لیپ ٹاپ ہیں، وہ عارضی ہیں۔ امریکی وفد کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ہر جگہ یو ایس بی کا استعمال نہ کریں۔ امریکی وفد کو بالکل نئے اور خالی فون اور لیپ ٹاپ دیے گئے ہیں۔ ان میں کوئی پرانا ڈیٹا یا ذاتی معلومات نہیں ہے۔ ان ڈیوائس کا استعمال صرف چین دورے کے دوران ضروری بات چیت کیلئے ہوگا۔ دورے کے بعد ان تمام فون اور لیپٹ ٹاپ کو تباہ کر دیا جائے گا یا مکمل طور پر فارمیٹ کر دیا جائے گا تاکہ کوئی وائرس امریکی نیٹ ورک میں نہ آ سکے۔
Trump's delegation enters China under a digital lockdown — officials leave personal phones behind, carry stripped-down devices and temporary laptops, operating under the assumption that anything brought into the country could be compromised by one of the world's most aggressive…
— Fox News Politics (@foxnewspolitics) May 14, 2026
رپورٹ کے مطابق چینی دورے پر گئے امریکی افسران کے احتیاط کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت نے پہلے ہی مان لیا تھا کہ چین میں ان کے ہر ڈیجیٹل ڈیوائس پر نظر رکھی جائے گی، اسلئے انہوں نے فون اور لیپ ٹاپ چھوڑ کر چین جانے کا فیصلہ کیا۔ جو فون اور لیٹ ٹاپ ان کے ساتھ ہیں، وہ صرف وہیں تک استعمال کیلئے ہیں۔ بعد میں اسے فارمیٹ کر دیا جائے گا یا اسے تباہ کر دیا جائیگا۔
واضح رہے کہ 2017 کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ پہلی بار چین کے دورے پر گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں کسی بھی موجودہ امریکی صدر کا یہ پہلا چین دورہ ہے۔ جمعرات کو بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جنپنگ کے درمیان دوطرفہ میٹنگ ہوئی۔ اس سے قبل ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا۔ جنپنگ کی موجودگی میں انہیں گارڈ آف آرنر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا، اور اس کے متعلق جاری تنازعات کو پرامن رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ ایران جنگ اور تائیوان کو امریکہ کے ذریعہ ہتھیار فروخت کیے جانے جیسے سنگین مسائل پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔