سٹی42 : سفاک خارجی دہشتگردوں نے رمضان کے روزہ کے دوران جمعہ کی نماز پڑھنے والے مسلمانوں پر عین مسجد کے اندر حملہ کر دیا۔ مسجد مین خارجیوں کے نصب کئے ہوئے بم کے نماز کے دوران پھٹنے سے پیش امام اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بچے اور مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر بھی شامل ہیں۔
جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک بازار کی جامع مسجد میں نماز جنعہ کے دوران دھماکہ ہوا، جس میں مولانا عبداللہ ندیم سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے۔
ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ جمعہ نماز کے دوران عین مسجد کے محراب کے اندر اس وقت ہوا جب مولانا عبداللہ ندیم نماز کی امامت کر رہے تھے, مسجد میں سینکڑوں نمازی بھی موجود تھے, دھماکے کی آواز دور علاقوں میں سنی گئی۔
بم حملے کا ظاہری ہدف مذہبی سیاسی رہنمامولانا عبدالل تھے جن کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔
نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ ضلعی پولیس کے سربراہ آصف بہادر کے مطابق اس بم حملے کا نشانہ بظاہر جے یو آئی (ایف) کے ضلعی سربراہ عبداللہ ندیم تھے، جو شدید زخمی ہوئے اور اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس پولیس افسر کے بقول، ''تین دیگر زخمیوں میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔‘‘
سابقہ فاٹا اضلاع میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بار بار دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح آپریشن کرنا پڑتے ہیں، حتیہٰ کہ رمضان کے عبادات کے لئے مخصوص مہینے میں بھی خارجی دہشتگرد مسلمانوں کو چین سے عبادت نہیں کرنے دیتے۔ تصویر: FAROOQ NAEEM/AFP
پاکستان کے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں حالیہ مہینوں میں خٓرجی دہشتگردوں کے خونریز حملے کافی زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہ حملے اکثر ان علاقوں میں کیے جاتے ہیں، جو ماضی میں وفاق پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کہلاتے تھے مگر گزشتہ کئی برسوں سے ان علاقوں کو صوبے کے باقاعدہ اضلاع کے طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کیا جا چکا ہے۔
ڈی پی او آصف بہادر نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکا خیز مواد مسجد میں نصب تھا، دھماکے میں جے یوآئی کے ضلعی امیر عبداللہ ندیم سمیت 4 افراد زخمی ہوئے۔
مولانا عبداللہ ندیم سمیت تمام زخمیوں کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا, جبکہ سکیورٹی فورسز نےعلاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
مولانا عبداللہ ندیم پر اس سے پہلے بھی کالوشہ کے مقام پر ریموٹ کنٹرول دھماکہ ہواتھا، جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔