ویب ڈیسک: ہالی ووڈ کے معروف اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں آسٹریلیا کے دارالحکومت سڈنی میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے فلم’’جراسک پارک‘‘ اور ’’دی پیانو‘‘ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
اداکار سیم نیل کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ان کا انتقال ’’اچانک اور غیر متوقع‘‘ تھا، موت کے وقت وہ کینسر میں مبتلا نہیں تھے۔ تاہم بیان میں موت کی وجہ کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ’’سیم اپنے خاندان کے ساتھ تھے اور انہوں نے اسی وقار کے ساتھ آخری سانس لی، جس نے ان کی پوری زندگی کی تعریف کی تھی۔ انہوں نےسال 2023 میں انکشاف کیا تھا کہ ان میں ’’انجیو امیونوبلاسٹک ٹی سیل لمفوما‘‘ نامی نایاب قسم کے نان ہاجکن لمفوما کی تشخیص ہوئی تھی۔
ہالی ووڈ اداکار سیم نیل سال1947 میں شمالی آئرلینڈ میں پیدا ہوئے، مسٹر نیل کا اصل نام نائجل نیل تھا۔ جب نیل سات برس کے تھے ان کا خاندان نیوزی لینڈ چلا گیا۔ انہوں نے بعد میں ’’سیم‘‘ نام اپنایا کیونکہ ان کے اسکول میں نائجل نام کے کئی طلبہ تھے۔ ان کا خاندان جنوبی جزیرے کے ڈونیڈن میں بس گیا اور ان کی تعلیم کرائسٹ چرچ کے بورڈنگ اسکول میں ہوئی۔نیل نے1977 میں نیوزی لینڈ کی فلم ’’سلیپنگ ڈاگس‘‘ سے مرکزی اداکار کے طور پر پہچان بنائی۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد بننے والی نیوزی لینڈ کی پہلی فیچر فلم تھی۔ انہیں بین الاقوامی پہچان 1979میں گیلین آرمسٹرانگ کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’’مائی بریلینٹ کیریئر‘‘ سے ملی۔ اس کے بعد انہوں نے ’’ڈیڈ کام‘‘، ’’سویٹ ریوینج‘‘، ’’دی پیانو‘‘ اور ’’ایونٹ ہورائزن‘‘ جیسی فلموں میں متنوع کردار ادا کئے۔
انہیں سب سے زیادہ مقبولیت1993کی بلاک بسٹر فلم ’’جراسک پارک‘‘ میں ماہر حیوانیات ڈاکٹر ایلن گرانٹ کے کردار سے ملی۔ فلم میں انہوں نے لورا ڈرن، جیف گولڈ بلم اور رچرڈ ایٹنبرو کے ساتھ اداکاری کی۔ انہوں نے فلم ’’دی لوسٹ ورلڈ: جراسک پارک‘‘ (1997) میں اداکاری نہیں کی، لیکن فلم ’’جراسک پارک۳‘‘ (2001) اور فلم ’’جراسک ورلڈ: ڈومینین‘‘ (2022) میں ڈاکٹر گرانٹ کے کردار میں واپسی کی۔مارچ2023؍ میں انکی سوانح عمری ’’ڈڈ آئی ایور ٹیل یو دس؟‘‘ شائع ہوئی تھی۔ فلمی دنیا میں ان کے نمایاں تعاون کیلئے آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی منظوری سے انہیں نائٹ ہڈ کے خطاب سے بھی نوازا تھا۔