سٹی 42 : ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کس گاڑی میں گھومتے ہیں اور ان کے ساتھ کتنے گارڈز ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے اہم تفصیلات خود ڈی آئی جی آپریشنز کی زبانی سامنے آئی ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ’’آر ٹی ایس وِد 24 پلس‘‘ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی۔ جہاں انہوں نے اینکر ریحان طارق کی جانب سے کیے مختلف عوامی سوالات کے جواب دیے ۔
انٹرویو کے دوران اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’’ آپ کس گاڑی میں آئے ہیں اور کتنے گارڈز آپ کے ساتھ ہوتے ہیں؟ جس پر فیصل کامران نے کہا کہ میں لینڈ کروزر میں آیا ہوں اور میرے ساتھ 8 گاڑدز ہوتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں اینکر نے عوامی رائے سامنے رکھی کہ جب ایک عام آدمی دیکھے گا کہ ڈی آئی جی آپریشنز لینڈ کروزر میں گھومتے ہیں، دو سکیورٹی گاڑیاں آپ کے ساتھ چلتی ہیں، جس میں 8 پولیس گارڈز ہوتے ہیں، تو آپ کو نہیں لگتا کہ لوگوں کی رسائی آپ تک کم ہو جاتی ہے۔
اینکر نے کہا کہ جس آفس میں آپ ہوتے ہیں ایسے لگتا ہے جیسے فائو سٹار ہوٹلز ہیں، جب ایک عام آدمی جس نے ٹوٹی ہوئی چپل پہنی ہے اس آفس میں جائے گا سب سے پہلے تو وہ سہم جائے گا یا ڈر جائے گا کہ میں کہاں آگیا ہوں۔آپ کو نہیں لگتا ان سب سے آپ کا عوام کے ساتھ فاصلہ بہت بڑھ جائے گا۔ ان سب سوالوں کو سننے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے بے حد خوبصورتی سے کہا کہ جب وہی شخص جو ایک لینڈ کروزر سے اتر کے اپنے شہریوں کے ساتھ مسجد میں زمین پہ بیٹھ کے بات چیت کرتا ہے تو عام عوام کو وہ لینڈ کروزر نہیں یاد رہتی وہ ایٹیٹیوڈ (رویئہ) یاد رہتا ہے، یہ بات یاد رہتی ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن مسجد میں ہمارے ساتھ آ کر بیٹھے ہیں۔ اس وقت میں عام عوام سے کہتا ہوں کہ میں یہاں آپ کی شکائتیں سننے آیا ہوں۔ فیصل کامران نے بتایا کہ میں تقریبا ایک سال (60 ہفتوں) سے ہر جمعہ کے دن عوام کے مسئلے سننے جاتا ہوں اور مسجد میں ان کے ساتھ نماز کے بعد بات چیت کرتا ہوں ان کی شکائتیں سنتا ہوں ۔
فیصل کامران کے اس جواب پر اینکر نے ایک اور سوال کیا کہ جب عام آدمی دیکھے گا کہ ایک افسر لیند کروزر میں اترا ہے، 8 گارڈز اس کے ساتھ ہیں، تو وہ تو ویسے ہی ڈر جائے گا کہ وہ تو کوئی سوال ہی نہیں کرئے گا آپ سے کہ کہیں میرے سے کوئی ایسا سوال نہ ہوجائے کہ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او مجھے تھانے پکڑ کر لے جائے۔ اس سوال کو سننے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ یہ سب باتیں آپ نے سنی ہوئی ہیں، تاہم اگر آپ نے کھلی کچہری (جو ہر ہفتے ہوتی ہے) میں لوگوں کی سخت گفتگو سنی ہو یا مسجد میں شہریوں کی میرے ساتھ کی گئی شکائتیں سنی ہوں تو آپ یہ سوال نہیں کریں گے۔ اس دوران شہریوں سے کھلم کھلا گفتگو ہوتی ہے ، لوگ ہمیں پولیس کے غلط رویے کے بارے میں بتاتے ہیں، جس پر فوری ایکشن بھی لیا جاتا ہے۔
اینکر کے ایک اور سوال ’’ اگر نوروے ، سویڈن اور جاپان کا پولیس چیف سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرسکتا ہے تو لاہور کا ڈی آئی جی آپریشنز لیند گروزر میں کیوں گھومتا ہے؟، کے جواب میں فیصل کامران نے کہا کہ نوروے کے پولیس چیف پر اس طرح کے بم دھماکے نہیں ہوئے جس طرح یہاں کے پولیس آفیسرز نے اپنی جانیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا کوئی ذاتی شوق نہیں ہے کہ میں بلٹ پروف گاڑی میں گھوموں ، یہ اس پوسٹننگ کی ریکوائرمنٹ ہے۔ یہاں پر ایسے واقعات ہوتے رہیں ہیں جہاں آفسروں کی جانیں جاتی رہیں ہیں، ہمارے پولیس سٹیشنز پر ، اداروں پر ، ایف آئی اے کی بلنڈنگ پر ، آئی ایس آئی کے آفس پر بہت سے واقعات ہوئے ہیں۔ لاہور میں جہاں کوئی بڑا واقعہ ہوگا تو ڈی آئی جی آپریشنز وہاں ضرور پہنچے گا۔ اس نوکری کے ساتھ تھوڑے بہت رسک اور چیلنجز بھی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے پاس آرمرڈ اور بلٹ پروف گاڑی ہونے کا فیصلہ بہت پہلے انہی چیلنجز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
فیصل کامران نے کہا کہ ہمارا انٹریکشن ہر طرح کے بندے کے ساتھ ہوتا ہے، میرے آفس میں آنے کے لیے کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر اپریل سے اپریل کی بات کریں تو 11 ہزار 5 سو 71 وہ کمپلینٹس ہیں جو میں نے ذاتی طور پر سنے ہیں ۔
مزید تفصیلات جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں: