عوامی فلاح کیلئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مولانا طارق جمیل نےبتادیا

عوامی فلاح کیلئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مولانا طارق جمیل نےبتادیا

ویب ڈیسک : عالم اسلام کےمعروف مبلغ مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے 24 نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے  ہوئے بتایاکہ  اللہ سے دعا کرتاہوں کہ  مجھے لوگوں کی  خدمت کا ذریعہ بنا دے اور اچھے سکول ،کالج اور ہسپتال بنانا چاہتے ہیں جہاں لوگوں کی فری خدمت کرسکیں۔  

ہمارے معاشرے میں  عدم برداشت ختم کرنے کاواحد طریقہ  اللہ کی کتاب قرآن مجید  اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت محمدﷺ کی زندگی سے جڑنے میں ہے،دنیا میں سب سے مشکل کام ہے انسانی تربیت ، انسانوں کو انسان بنانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھجوایا ہے۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ خیر کے کام کی کوئی انتہا نہیں،دنیا تو کہیں جا کررک جاتی ہے لیکن نیکی اور خیر ایک ایسی چیز ہے کہ  جس کی کوئی انتہا نہیں ہے،انہوں نے کہاکہ ہمارا علاقہ پسماندہ ہےعلاج کیلئے لوگ دھکے کھاتے ہیں ، اللہ سے دعا کرتاہوں کہ  مجھے ان لوگوں کی  خدمت کا ذریعہ بنا دے اور اچھے سکول ،کالج اور ہسپتال بنانا چاہتے ہیں جہاں لوگوں کی فری خدمت کرسکیں۔  مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ  کوشش ہے  ایم ٹی جے فاؤنڈیشن  کا سسٹم  مجھ پر ڈیپینڈ نا کرے بلکہ اللہ سے دعا کررہا ہوں کہ ایسانظام بنادے کہ میرے جانے کہ بعد بھی میری ٹیم  اس کوچلاتی رہے۔ مولانا طارق جمیل نے اپنی فٹنس  کا راز بتایا کہ  اپنی تلمبہ رہائش گاہ پر قائم نجی جم میں ورزش کر تاہوں ۔

یادرہے کہ  عالم اسلام کےمعروف مبلغ مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے 24 نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے  ہوتے بتایا کہ تجارت نبیوں کا پیشہ ہے ، اپنی بنائی گئی ایم ٹی فاؤنڈیشن کے بارے ان کا کہناتھا کہ یہ بھی دین داری کا حصہ ہے، تجارت نبیوں کا پیشہ ہے،سارے صحابہ اکرام تاجر تھے یا زمیندار تھے،مکہ والے تاجر تھے اور مدینہ والے زمیندار تھے اور زمیندار ہمارا آبائی پیشہ ہے،اس  برانڈ کا مقصد دنیا کمانا نہیں بلکہ مستحق اداروں کی مدد کرنا ہے۔میں چاہتا ہوں کے میرے پاس جتنے ادارے ہیں وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں،بچوں کو خیرات نہ کھلائیں۔