(ویب ڈیسک) ٹی-20 ورلڈ کپ میں امریکہ، بھارت اور پاکستان کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ 7 فروری کو ممبئی میں میزبان بھارت کے خلاف اپنے مہم کا آغاز کرنا ہے، لیکن اس سے قبل امریکی ٹیم کیلئے ویزا سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے ٹورنامنٹ کو تنازعات میں لا کھڑا کیا ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور انڈین کرکٹ بورڈکے درمیان میچ منتقل کرنےکے معاملے پر ابھی تعطل جاری ہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 7 فروری سے ٹی-20 ورلڈ کپ کا آغاز ہونا ہے، لیکن تنازعات ابھی سے شروع ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش سے متعلق معاملہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اب امریکی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا ’ ویزا تنازعہ‘ سامنے آ گیا ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونیوالے تین مزید کھلاڑیوں کے ورک ویزا میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ فاسٹ بالر علی خان کو کولمبو میں واقع بھارتی ہائی کمیشن میں طے شدہ ملاقاتوں کے بعد اسی طرح کی مشکل کا سامنا کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
کرکٹ کےکھیل سے متعلق ویب نیوز سائٹ ’’کرک بز ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق شایان جہانگیر، محمد محسن اور احسان عادل آئی سی سی ٹورنامنٹ کے لیے انڈیا آنے کے ویزا پرمٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے آخری مرحلے کے لیے امریکی ٹیم اس وقت سری لنکا میں موجود ہے۔ دیگر کھلاڑیوں نے منگل کو اپنے ویزا سے متعلق اپائنٹمنٹس مکمل کر لیے ہیں۔ اگرچہ اب تک کسی بھی کھلاڑی کی ویزا درخواست کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا گیا ہے، لیکن چار کھلاڑیوں کی درخواستیں ابھی زیرِ غور ہیں۔ آئی سی سی کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اپائنٹمنٹ سے پہلے تمام ضروری دستاویزات جمع کرا دی گئی تھیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ’’آج صبح سری لنکا میں واقع بھارتی سفارت خانے میں ان کی ملاقات طے تھی۔ انہوں نے آئی سی سی کی جانب سے مقرر کردہ تمام کاغذی کارروائی مکمل کر لی تھی۔ملاقات کے دوران کھلاڑیوں کو بتایا گیا کہ اس وقت ویزا پروسیس مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ بعد ازاں شام کو امریکی انتظامیہ کو بھارتی سفارت خانے سے فون آیا، جس میں بتایا گیا کہ کچھ ضروری معلومات موصول ہو گئی ہیں، جبکہ وزارتِ خارجہ سے مزید معلومات کا انتظار ہے۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد آگے کی کارروائی کے لیے ان سے رابطہ کیا جائے گا۔ یہی اس وقت کی صورتِ حال ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ خصوصی زمرے کے معاملات میں جانچ کا عمل معمول کی بات ہے اور بھارتی حکومت کے پروٹوکول کے مطابق ہی کیا جا رہا ہے، لیکن منگل کو فاسٹ بالر علی خان کی سوشل میڈیا پوسٹ، جس میں انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ ان کا ویزا مسترد کر دیا گیا ہے، اسی سے پورا معاملہ متنازع بن گیا۔