(ویب ڈیسک)جنوبی امریکہ کےملک ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ جولیٹا کے شوہر کا نام چارلی ہے اور اسکی عمر 68 سال ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جولیٹا کے والد کی عمر صرف 54 سال ہے جو جولیٹا کے شوہر سے 14 سال چھوٹے ہیں۔ ان دونوں شادی شدہ جوڑے کاسوشل میڈیا پر ان کا خوب چرچا اور مذاق اڑایا جاتا ہے۔ایک طرف جولیٹا پر الزام ہے کہ وہ صرف اور صرف پیسوں کیلئے اکٹھے ہیں تو دوسری طرف چارلی پر الزام ہے کہ وہ ایک نوجوان عورت سے رومانس کرنا چاہتا تھا، اسلئے اس نے جولیٹ کو اپنی شریک حیات بنا لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ن دنوں رشتوں میں عمر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آپ نے بہت سی مشہور شخصیات کے بارے میں سنا ہوگا جن کی عمر میں نمایاں فرق ہے۔ لیکن جب یہ واقعتاً ہوتا ہے تو حیرت ہوتی ہے۔ ارجنٹائن کے ایک جوڑے کی کہانی ان دنوں ان کی عمر میں 43 سال کے فرق کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ بیوی کی عمر 25 سال ہے، جب کہ شوہر کی عمر 68 سال ہے۔ ان کی ملاقات جتنی دلچسپ ہے، اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خاتون اب اپنی عمر سے دوگنی بچوں کی ماں بن چکی ہے۔
ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق، ارجنٹینا کی رہائشی 25 سالہ جولیٹا کے شوہر کا نام چارلی ہے۔ ان کی عمر 68 سال ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جولیٹا کے والد کی عمر صرف 54 سال ہے، یعنی ان کے شوہر سے 14 سال کم۔ دونوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوتی ہے اور مذاق بھی بنایا جاتا ہے، مگر جولئیٹا کو اب اس بات سے فرق نہیں پڑتا۔ان کی ملاقات چارلی سے اس وقت ہوئی جب وہ ارجنٹینا کے “لا فالڈا” نامی قصبے کے ایک ہوٹل میں قیام کے لیے آئے تھے۔ وہ وہاں ایک ہل اسٹیشن گھومنے آئے تھے، جہاں جولئیٹا ایک چھوٹی سی جیولری کی دکان چلاتی تھیں اور انگوٹھی، بریسلیٹ وغیرہ بیچتی تھیں۔ انہیں پہلے سے ہی عمر میں بڑے مردوں کو ڈیٹ کرنا پسند تھا۔وہ بوڑھے سیاحوں کو سامان فروخت کرتی تھی اور چارلی ان میں سے ایک تھا۔ ان کی آنکھیں ملیں اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ چارلی شاپنگ کے بہانے اس کے اسٹال پر گیا اور غیر معمولی گفتگو کے ذریعے اسے باہر جانے کا کہا۔ ان کی پہلی ملاقات پر، انہوں نے تین گھنٹے تک بات کی. انہیں احساس ہوا کہ ان کے درمیان کچھ کیمسٹری ہے۔ وہ باہر گئے اور گلےملے، اور ان کے تعلقات کی تصدیق ہوگئی۔ دو سال بعد دونوں نے اسی جگہ شادی کر لی۔ ان کی شادی کے بعد، جولیٹا چارلی کے بچوں کی ماں بن گئی، جو اس کی عمر سے دوگنا تھے۔ جولیٹا کہتی ہیں کہ انہیں چارلی کا انداز اور ٹیٹو بہت پسند تھے۔ وہ بھی اس کی ذہانت سے متوجہ تھی۔
گھر والے بھی حیران تھے۔
25 سالہ جولیٹا نے جب اپنے والدین کو اپنے رشتے کے بارے میں بتایا تو وہ چونک گئے۔ تاہم چارلی نے جولیٹا کے والد کو مذاق میں کہا اگر میری بیٹی 23 سال کی ہوتی اور ایک 66 سالہ شخص شادی میں اس سے ہاتھ مانگنے آتا تو میں اسے مارتا۔ یہ سن کر جولیٹا کے والد ہنس پڑے اور دونوں اچھے دوست بن گئے۔ خاندان اور دوستوں کو اب ان کے تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ٹرول انہیں جانے نہیں دیتے۔ وہ مسلسل ان کا مذاق اڑاتے اور طعنے دیتے رہتے ہیں۔ایک طرف جولیٹا پر الزام ہے کہ وہ صرف اور صرف پیسوں کے لیے اکٹھے ہیں تو دوسری طرف چارلی پر الزام ہے کہ وہ ایک نوجوان عورت سے رومانس کرنا چاہتا تھا، اسلئے اس نے جولیٹ کو اپنی شریک حیات بنا لیا۔