ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دنیا میں بڑے تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی، تحقیق نے خبردار کردیا

دنیا میں بڑے تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی، تحقیق نے خبردار کردیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: استنبول کے قریب بحیرہ مرمرہ کے نیچے موجود چٹانیں طویل عرصے سے بڑے زلزلوں کے بغیر بتدریج شدید دباؤ  میں ہیں جو ایک خطرناک دراڑ کی صورت اختیار کرسکتی ہیں۔

یہ چٹانیں استنبول کے ساحل کے قریب واقع ہیں، جہاں گزشتہ ڈھائی سو برس سے زیادہ عرصے سے یہ فالٹ کسی بڑے زلزلوں کے بغیر بتدریج دباؤ جمع کر رہا ہے۔

ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے شمالی اناطولیہ کی خطرناک دراڑ کے تحت مرمرہ سمندر کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں چھوٹے مگر اہم فرق کو بے نقاب کیا ہے جو مستقبل میں بڑے زلزلوں کی ممکنہ وجہ ہوسکتا ہے۔

https://today.usc.edu/wp-content/uploads/2026/01/iStock-903934818-768x432.jpg

یہ نتائج دراڑ کی میکانیزم کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی بہتر پیش گوئی میں معاون ہیں، جیسا کہ سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کو واضح کیا ہے، جس سے خطے میں زلزلے کے خطرات اور زمین کی گہرائی میں کارفرما قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق 15 سے 20 کلومیٹر طویل یہ خاموش حصہ مقفل ہے اور مسلسل تناؤ میں ہے، اندازہ ہے کہ اگر جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا زلزلہ آسکتا ہے، اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

https://media.springernature.com/lw1200/springer-static/image/art%3A10.1007%2Fs42990-021-00048-7/MediaObjects/42990_2021_48_Fig1_HTML.png

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے ،جو زلزلوں کے لیے سب سے زیادہ حساس ہیں، کیونکہ یوریشین، افریقی، عربی اور اناطولیہ ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔

ماہرین کے نزدیک اس علاقے کو جسے پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ کہا جاتا ہے، ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفوں سے بڑے زلزلے آتے رہے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے سائنس دانوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل مدتی نگرانی کی مدد سے ان بلند تناؤ والے مقامات کی نشاندہی کی ہے۔

https://encrypted-tbn0.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcSsRDq_ijWbTVaL72YMLlZP2nOY3iu_l6UksA&s

سمندر کی تہہ میں کی جانے والی پیمائشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی خارج ہوئی تو چار میٹر سے زائد زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔ یہ حصہ استنبول شہر کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے زلزلہ جیسے ہوسکتے ہیں۔

تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جمع ہونے والا یہ دباؤ کسی بھی وقت بڑے زلزلے کی صورت میں خارج ہو سکتا ہے، اس لیے متعلقہ حکومتوں کو تیاری اور حفاظتی منصوبہ بندی کی حکمت عملی مرتب کرنا انتہائی ضروری ہے۔

 
 
 

Ansa Awais

Content Writer