ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار بحری جہازوں میں جنگی طیارے اڑانے کے لیے استعمال ہونے والے جدید برقی نظام کو ختم کرکے دوبارہ بھاپ سے چلنے والے کیٹپلٹ سسٹم کی واپسی کا حکم دے دیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے قومی سلامتی کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت جرالڈ آر فورڈ کلاس کے چوتھے طیارہ بردار بحری جہاز ’ڈورس ملر‘ میں الیکٹرومیگنیٹک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم کے بجائے روایتی اسٹیم کیٹپلٹ استعمال کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس جہاز کی تیاری ابھی جاری ہے۔ ’ڈورس ملر‘ کی کیل 2026 کے اختتام تک بچھائے جانے اور 2034 کے آغاز میں امریکی بحریہ کے حوالے کیے جانے کی توقع ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے بحریہ کے برقی لانچ سسٹم کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ الیکٹرومیگنیٹک نظام زیادہ مہنگا اور پیچیدہ ہے اور بھاپ سے چلنے والے نظام جتنا مؤثر نہیں تاہم نئے نظام کی تنصیب سے ڈیزائن میں تبدیلی پر امریکی ٹیکس دہندگان کو کروڑوں ڈالر کا اضافی بوجھ پڑنے کی توقع ہے۔
الیکٹرومیگنیٹک لانچ سسٹم تیار کرنے والی کمپنی جنرل ایٹامکس نے بھی اس فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پیداوار کا تقریباً 50 فیصد مکمل ہونے کے بعد نظام تبدیل کرنے سے اخراجات، شیڈول اور تنصیب سے متعلق نمایاں خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مارچ 2026 تک امریکی بحریہ کے پہلے فورڈ کلاس طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس جرالڈ آر فورڈ‘ سے EMALS کے ذریعے 36 ہزار 863 لانچز مکمل کیے جاچکے تھے۔
ٹرمپ کے فیصلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی بحریہ کو پہلی مرتبہ کئی دہائیوں بعد محدود پیمانے پر بیرون ملک بحری جہاز تیار کرانے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی شپ یارڈز میں نمایاں اور مستقل سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیاں عارضی طور پر اپنے ملک میں زیادہ سے زیادہ دو بحری جہاز تیار کرسکیں گی، جنہیں امریکی بحریہ میں پیدا ہونے والے خلا کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے لیے پانچویں شپ یارڈ کے قیام کی ہدایت بھی کی ہے، جس کا مقصد آبدوزوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کی مرمت کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔