ویب ڈیسک : کینسر ایسا موذی مرض ہے جو موجودہ عہد میں بہت تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے اور جوان افراد میں اس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔مگر روزمرہ میں ایک عادت کو اپنا کر اس سے بچنے یا اس سے متاثر ہونے پر اس پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔اور وہ عادت ہے ورزش۔
یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن میں محض ایک بار سخت ورزش کرنے سے کینسر سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔تحقیق کے مطابق ورزش سے جسم میں myokines نامی ایک پروٹین کی سطح بڑھتی ہے جو کہ کینسر کش خصوصیات سے لیس پروٹین ہے جو سرطان کی رسولی کو 20 سے 30 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ورزش کینسر سے تحفظ یا اس سے لڑنے کے لیے کسی دوا کی طرح کام کرتی ہے اور شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔اس تحقیق میں بریسٹ کینسر کو شکست دینے والے مریضوں میں ورزش سے قبل اور بعد میں myokines پروٹین کی سطح کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ 30 منٹ تک ورزش کرنے سے اس پروٹین کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق صحت مند افراد میں تو اس پروٹین کی سطح بڑھنے کی ہمیں پہلے سے توقع تھی مگر ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ بریسٹ کینسر کے مریضوں کے جسم میں ایسا ہوتا ہے یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی ورزشوں سے کینسر کش پروٹین کی سطح مریضوں کے جسموں میں بڑھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ طویل المعیاد بنیادوں پر اس پروٹین کی سطح بڑھنے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کے خیال میں ورزش کو معمول بنانے سے جسم میں ورم کی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں یعنی اسے کنٹرول میں رکھنا آسان ہو جائے گا۔
جسم میں ورم کی سطح زیادہ ہو اور یہ تسلسل برقرار رہے تو اس سے سرطان کی رسولی کی نشوونما تیز ہو جاتی ہے جبکہ مدافعتی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے جس سے علاج زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔محققین کے مطابق ہم نے دریافت کیا کہ ورزش سے چربی کی سطح کم ہوتی ہے اور اس سے ورم کو کنٹرول میں رکھنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل بریسٹ کینسر ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ میں شائع ہوئے