ملک اشرف : باؤنس چیک کیس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پیش,ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی ملزم محمد جمیل ارشد کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا ، ایس پی انویسٹی گیشن صدر عبداللہ پیش ہوئے۔پولیس افسران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اسد تحریم بیگ کے ہمراہ پیش ہو ئے۔جسٹس سید شہباز علی رضوی کا ڈی آئی جی سے مکالمہ کر تے کہا "آپ ہیں انچارج، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن "۔ڈی آئی جی نے جواب دیاکہ جی میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا ہوں۔جسٹس سید شہباز علی رضوی نے پوچھا آپ کو علم ہے کہ آپ کو کیوں بلایا گیا ہے؟۔ ڈی آئی جی نے جواب دیاکہ جی علم ہے،میں معذرت چاہتاہوں۔
ایس پی سپیشل ڈیوٹی پر تھے جس کیوجہ سے گزشتہ روز حاضر نہیں ہوسکے ۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ متعلقہ ڈیوٹی پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ ایس پی انویسٹی گیشن نے مؤقف اپنایا کہ ایڈوانس پارٹی تھی ، جس پر ڈیوٹی لگی ہوئی تھی ۔وکیل صفائی نے ملزم کی عبوری ضمانت کنفرم کروانے کے لئے دلائل دئیے۔وکیل صفائی نے مؤقف اپنا یا کہ ملز م نے گاڑی کے عوض 3لاکھ روپے کا چیک بطور گارنٹی دیا ، گاڑی کا حادثہ ہوگیا۔۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے عدالت کو بتایا کہ پولیس تفتیش کے مطابق ملزم قصور وار ہے، گاڑی کا حادثہ نہیں ہوا۔ مدعی کے مطابق گاڑی لون پر دی گئی ہے۔عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت خارج کردی۔