بیوروکریسی کی کام میں عدم دلچسپی

بیوروکریسی کی کام میں عدم دلچسپی

(قیصر کھوکھر) پنجاب کی افسر شاہی آج کل ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے اور سرکاری محکموں میں کوئی بھی تخلیقی یا عوام دوست کام نہیں ہو پا رہا ہے، اصل میں ابھی تک حکومت اور بیوروکریسی میں انڈر سٹینڈنگ ہی نہیں ہو سکی جس کے باعث بیوروکریسی اور حکومت کا ہنی مون ختم نہیں ہو سکا ہے ۔ سیکرٹری فائل پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں، وفاق میں وزیر اعظم عمران خان ایک ہی صوبے کے افسران پر ٹیم بنا کر انحصار کر رہے ہیں اور اعظم خان کو پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعظم اور جہانزیب خان کو چیئرمین ایف بی آر لگادیا گیا ہے ۔

پنجاب میں بیوروکریسی کی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ہی نہیں بن سکی اور پنجاب کی بیوروکریسی اس وقت گو سلو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اپنے دفتری امور میں عدم دلچسپی لے رہی ہے جس سے ایک عام آدمی پس رہا ہے اور اس کے اب کے تبدیلی کے دور میں بھی کام نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اور ایک عام بیوروکریٹ نیب اور اینٹی کرپشن کے خوف سے کام بھی نہیں کر رہا ہے۔وفاق میں کے پی کے سے تعلق رکھنے والے افسران پر بھروسہ کیا جا رہا ہے اور پنجاب میں جنوبی پنجاب کے افسران کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ داکٹر راحیل صدیقی کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کیپٹن (ر) اعجاز احمد جعفر وزیر اعلیٰ کے قریبی عزیز بتائے جاتے ہیں۔

چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر کا تعلق بھی جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے ہے ۔ سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ نے تین سال کی رخصت کی درخواست دے دی ہے اور انہوں نے درخواست کی ہے کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر تین سال کے لئے رخصت چاہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ان تین سالوں میں کسی نجی ادارے میں نوکری کا پلان رکھتے ہیں۔ اس طرح افسر شاہی دلبرداشتہ ہو کر کام چھوڑ رہی ہے۔ دفتروں میں اسامیاں خالی پڑی ہیں اور تمام محکمے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پرحالات اس سے بھی ابتر ہیں۔ تحصیل اور ضلع کی سطح کے ایجوکیشن ادارے تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں اور تحصیل اور ضلع کی سطح کے ہسپتال بھی مریضوں کو سہولتیں دینے سے قاصر ہیں اور مریضوں کو لاہور منتقل کر دیا جاتا ہے جس سے سارا کے سارا رش لاہورکے ہسپتالوں میں ہو گیا ہے۔ جہاں پر ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض داخل ہیں اور چلڈرن ہسپتال لاہور میں تو ایمرجنسی میں بیڈ نہ ہونے سے مائیں مریض بچوں کو گود میں لے کر بیٹھی ہیں۔ جس طرح شعبہ تعلیم نجی سیکٹر میں چلا گیا ہے اسی طرح اب شعبہ صحت بھی نجی سیکٹر کو منتقل ہو رہا ہے۔ جہاں پر علاج معالجے کے اخراجات کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔

 محکمہ تعلیم اور محکمہ ہیلتھ کا ان پٹ اور آﺅٹ پٹ ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔ محکمہ بلدیات نے کئی ماہ کی کوششوں کے بعد نیا بلدیاتی ایکٹ تیار کیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ محکمہ بلدیات میں اس وقت بلدیاتی اداروں میں پچاس فی صد سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ گزشتہ دس سالوں میں ان بلدیاتی اداروں اور محکمہ بلدیات میں ساری کی ساری بھرتی سنٹرل پنجاب سے ہوتی رہی ہے اور اب یہ ملازمین جنوبی پنجاب جانے کو تیار نہیں ،جس سے جنوبی پنجاب کے بلدیاتی اداروںمیں افسران اور ملازمین کا شدید قحط پڑ گیا ہے۔ اب وزیر اعلیٰ پنجاب کا کیونکہ تعلق جنوبی پنجاب سے ہے لیکن ابھی تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ نہیں بن سکا ہے اور جنوبی پنجاب کی محرومی جوں کی توں ہے لیکن ایک اچھا قدم یہ ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ نے ڈی جی خان کی ترقی کو برابر اہمیت دی ہے جہاں پر نئے ہسپتال ، نئی سڑکیں اور نئے ادارے بن رہے ہیں۔ سردار عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ بننے کے باوجود بھی اگر جنوبی پنجاب کی محرومیاں ختم نہ ہوں تو پھر کس کا قصور ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر ابھی تک اپنی افسر شاہی کی ٹیم ہی نہیں بنا سکے اور اس وقت پنجاب کی نوکر شاہی بھی اپنی سمت کا تعین نہیں کر سکی ،کہ سنٹر آف پاور کون ہے اور کس کا حکم مانا جائے اور کس کا حکم نظر انداز کیا جائے ۔

پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور تمام کمشنرز اور آر پی او اور ڈی پی او کے سامنے درست سمت میں آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کی رٹ قائم نہیں ہو سکی ہے۔ جس طرح ناصر محمود کھوسہ اور جاوید محمود اختیارات رکھتے تھے اور افسر شاہی سے کام لیتے تھے اس طرح کے اختیارات ابھی تک چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر اور آئی جی پولیس امجد جاوید سلیمی کو نہیں مل پا رہے۔ شہباز شریف دور کے افسران دوبارہ ایوان وزیر اعلیٰ میں تعینات ہو رہے ہیں ۔ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے پی ایس او عامر کریم ا ب موجودہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے سینئر پی ایس او بن گئے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے والے افسران پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اب بھی مسلم لیگ نون کے وفادار ہیں اور مسلم لیگ نون سے حکم لے رہے ہیں۔ حکومت نے شہباز شریف کے سابق سیکرٹری کوارڈی نیشن نبیل احمد اعوان کو سیکرٹری محکمہ قانون تعینات کیا لیکن بعدازاں ان کا تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ او ایم جی گروپ کے افسر ڈاکٹر محمد شعیب اکبر سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں بھی پنجاب میں ڈیپوٹیشن پر سیکرٹری لیبر اور سپیشل سیکرٹری ہوم رہے ہیں اور وہ اب موجودہ وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری کوآرڈی نیشن ہیں۔

 یہ وقت کی ضرورت ہے کہ افسر شاہی میں ایک جدت لائی جائے اور ان میں کام کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے اور انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ وہ عوام کے نوکر ہیں اور عوام کے ٹیکسوں سے انہیں تنخواہ ملتی ہے اور عوام کی خدمت کو ہی اپنا شعار زندگی بنائیں اور وقت پر دفتر آئیں اور دفتری امور میں گہری دلچسپی دکھائیں۔ یہی ملک و قوم کی خدمت ہے نہ کہ عوام کے لئے فرعون بنیں۔ جب تک بیوروکریسی کی سمت کا تعین نہیں ہوتا اور چیف سیکرٹری و آئی جی کو مکمل اختیارات نہیں ملتے اس وقت تک معاملات سلجھنے کا کوئی امکان نہیں۔ وزیراعلیٰ کو بیوروکریسی پر اعتماد کرنا ہوگا،انہیں فری ہینڈ دینا ہوگا۔ اگر حکومت نے اختیارات بیوروکریسی کو منتقل نہ کئے تو نتائج کی توقع رکھنا بھی بے سود ہوگا

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر