ویب ڈیسک:آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایران کے ایک تجارتی جہاز پر اتوار (13 ستمبر) کی صبح ایک پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 3 دیگر زخمی ہو گئے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق ایران کے جنوبی کیشم جزیرے کے گورنر حسین امیر تیموری نے بتایا کہ دشمن کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل ہینگام جزیرے اور شیب ڈیراز گاؤں کے قریب پانی میں موجود ایک تجارتی کنٹینر جہاز سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہو گئے۔حسین امیر تیموری نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے ہینگام جزیرے اور شیب ڈیراز کے علاقے میں پیش آیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زخمیوں کے علاج کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے شخص اور زخمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات واضح نہیں کی گئی ہیں۔
BREAKING: An Iranian commercial vessel was struck near Hengam Island and the Shib Deraz coast of Qeshm Island, killing one person and wounding three others, said Qeshm Governor Amir Teymouri, Iranian state media reports.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 13, 2026
LIVE updates: https://t.co/tqtSaYulMi pic.twitter.com/iSuWD2wbUW
دوسری جانب برطانیہ کے ’یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز‘ (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم نگرانی کرنے والے ادارے نے واقعے کے حوالے سے فوری طور پر تفصیلی معلومات شیئر نہیں کیں۔ واقعے میں متاثرہ جہاز کی شناخت اور حملے کے حالات کے بارے میں بھی فی الحال صورتحال واضح نہیں ہے۔
اس دوران آئی آر جی سی کے ایک سینئر عہدیدار نے امریکی بحریہ کے جہازوں کو آبنائے ہرمز کے قریب نہ آنے کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ پر واشنگٹن کا کنٹرول ہے۔ ایران کی ’فارس‘ نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نیوی کے ڈپٹی پولیٹیکل کمانڈر نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے تو آگے بڑھیے اور اپنے کسی جنگی جہاز کو 100 کلومیٹر کے دائرے میں لے آئیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج جانتی ہے کہ اس علاقے میں آنے والے کسی بھی جہاز کو ایرانی فوج کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑیگا۔