ڈاکٹر ہڑتال نہ کریں تو کیا کریں

ڈاکٹر ہڑتال نہ کریں تو کیا کریں

(قیصر کھوکھر) جب کسی سرکاری ملازم کا ملازمت کا حق چھین لیا جائے اور جب کسی ملازم کو اچانک سرکاری شعبہ سے فارغ کر کے نجی شعبہ کے حوالے کر دیا جائے اور اس کی پنشن اور دیگر سرکاری مراعات ختم کر دی جائیں تو کیا وہ احتجاج کا بھی حق نہیں رکھتا ہے؟۔ اگر نہیں رکھتا تو کیا وہ خود کشی کر لے یا نوکری چھوڑ کر گھر چلا جائے؟۔ حکومت کو اپنے تمام سرکاری ملازمین خواہ وہ ڈاکٹر ہوں یا انجینئرز، بیوروکریٹ ہوں یا دیگر افسران سب کو برابر کے حقوق دینے چاہئیں اور سب کو ملازمت کا حق دیا جائے۔

  پنجاب سول سیکرٹریٹ کے گریڈ 17سے گریڈ 22تک کے افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ کا ڈیڑھ گنا بطور ایگزیکٹو الاﺅنس دیا گیا ہے جبکہ دوسرے تمام گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے ملازمین کواس الاﺅنس سے محروم رکھا گیا ہے اور حتی کہ پنجاب سول سیکرٹریٹ میں چھوٹے ملازمین اس پر مسلسل سراپا احتجاج ہیں کہ افسران کو تو ایگزیکٹو الاﺅنس دے دیا گیا ہے لیکن گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک کے ملازمین کو کیوں یہ الاﺅنس نہیں دیا جا رہا ہے ۔ پنجاب سول سیکرٹریٹ کے ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اسی طرز پر یوٹیلٹی الاﺅنس دیا جائے۔

 لیکن ڈاکٹرز، نرسوں اور ہسپتالوں کے پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ تو یکسر ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں سرکاری نوکری کے بنیادی حق سے ہی محروم کیا جا رہا ہے اور ان ہسپتالوں کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس کو بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کیا جا رہا ہے جہاں پر انہیں نہ تو نوکری کی گارنٹی ہے اور نہ ہی تنخواہ وقت پر ملنے کا بھی راستہ دکھایا گیا ہے اور اب ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے ایک گرینڈ ہیلتھ الائنس کے پلیٹ فارم پر تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں او پی ڈی پہلے مرحلے پر بند کر دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کا فیصلہ اور جاری کیا گیا آرڈیننس واپس لیا جائے اور تمام ہسپتالوں کی نجکاری روکی جائے اور یہ کہ ہسپتالوں کو حکومت کے ہی کنٹرول میں رکھا جائے ۔ اگر آج ہم ڈاکٹروں کا افسر شاہی سے موازنہ کریں توپنجاب کی افسر شاہی اس وقت مزے میں ہے ۔انہیں ایک ڈاکٹر سے دو گنا زائد تنخواہ بھی مل رہی ہے اور سب سے بڑھ کر نوکری کی گارنٹی اور پنشن کی سہولت بھی حاصل ہے۔

لہٰذا اس ساری صورتحال میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہسپتالوں میں ہڑتال ایک درست قدم ہے اور حکومت کو فوری طور پر ڈاکٹروں سے مذاکرات شروع کرنے چاہئےں اور ڈاکٹروں کے تمام جائز اور درست مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنا ہونگے ورنہ یہ او پی ڈی کی ہڑتال، کل کو ہسپتالوں کی ایمرجنسی اور ان ڈور بھی بند کر سکتی ہے جس سے حکومت کا تو کچھ نہیں جائے گا لیکن بے چارے مریضوں کا زیادہ سے زیادہ نقصان ہوگا۔ آج صوبائی وزیر ہیلتھ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایم ٹی آئی کا قانون متعارف کرایا ہے ،حالانکہ ڈاکٹروں کو ہڑتال کا طریقہ کار کس نے سکھایا، ڈاکٹروں کو سڑکوں پر لے کر کون آیا؟۔ پورے پنجاب کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں اس وقت او پی ڈیز بند پڑی ہیں اورہسپتالوں کے ایم ایس حضرات کے اس ہڑتال کو کنٹرول کرنا بس میں نہیں۔

 وہ او پی ڈیز میں ہسپتال کے ملازمین کو بیڈ پر لٹا کر ان کی ایک جعلی تصویر بنا کر حکام بالا کو بھیج رہے ہیں کہ او پی ڈی میں مریضوں کا چیک اپ کیا جا رہا ہے حالانکہ اس وقت ڈاکٹروں، نرسوں، اور پیرا میڈیکل سٹاف میں ایک قدرتی اتحاد پایا جاتا ہے ۔ انجینئرز ، بیوروکریٹس، ٹیچرز کو نوکریوں کی گارنٹی حاصل ہے تو ایک ڈاکٹر اور ایک نرس کو کیوں نہیں؟۔ حکومت کو فوری طور پر ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے مذاکرات شروع کرنا ہونگے تاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کو دی جانے والی سہولتوں کو بہتر کیا جا سکے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو بھی ڈیوٹی کا پابند کیا جائے اور انہیں یہ باور کرایا جائے کہ وہ ہسپتالوں کو اپنا کلینک ہی سمجھیں اور ہسپتالوں میں بھی مریضوں کو چیک کریں اور مریضوں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور وقت پر ہسپتال آئیں اور ڈیوٹی ختم ہونے سے قبل ہسپتال سے نہ جائیں۔

 ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کارکردگی بہتر کرنے کےلئے نئے اقدامات متعارف کرائے جائیں اور ڈاکٹروں کی اگلے گریڈ میں ترقی ان کے کام سے مشروط کر دی جائے اور ہسپتالوں میں ہر ڈاکٹر کی ماہانہ بنیادوں پر کارکردگی کو چیک کیا جائے اور اس کیلئے ایک میکانزم بنایا جائے۔ جو ڈاکٹر ہسپتال میں آپریشن نہیں کرتا ہے اس کیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائے اور ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی صفوں میں چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کی نشاندہی کی جائے اور سینئر اور پروفیسرز ڈاکٹروں کو بھی او پی ڈی میں بیٹھنا لازمی قرار دیا جائے لیکن ہسپتالوں کو یکسر نجی شعبہ اور بورڈ آف گورنرز کے حوالے نہ کیا جائے اور نہ ہی ڈاکٹروں اور نرسوں کی نوکری کسی خطرے میں ڈالی جائے چند لوگوں کی وجہ سے اکثریت کو سزا نہ دی جائے۔ ہسپتالوں میں اچھا کام کرنے والے ڈاکٹرز بھی موجود ہیں۔ جو ڈاکٹر اور پروفیسر اچھا کام کرتے ہیں ان کے کام کی قدر کی جائے۔ ہسپتالوں کو نجی شعبہ اور بورڈ آف گورنرزکے حوالے کرنا ناانصافی ہوگا۔ تحریک انصاف ، انصاف کرے،ناانصافی نہیں

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر