ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

’’حاجی پیرو، لکڑی چیرو‘‘لوگ دلیپ کمار کے دیوانے اور وہ پشاوری مجذوب کا دیوانہ

 ’’حاجی پیرو، لکڑی چیرو‘‘لوگ دلیپ کمار کے دیوانے اور وہ پشاوری مجذوب کا دیوانہ
سورس: courtesy...Riaz siddiqui
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ایس ایم عتیق شاہ  بخاری) بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ پر راج کرنے والے دلیپ کمار جن کا اصلی نام یوسف خان تھا، جب 1988 میں پہلی دفعہ اپنی جائے پیدائش پشاور آئے تو انہوں نے اپنی بہت ساری یادیں تازہ کی ،قصہ خوانی سے ہوتے ہوئے اپنے گھر خداداد گئے اور اپنے گھر کی مٹی چومی ،پشاوری چپل کباب کھائے اور پشوری قہوہ کی چسکیاں لیں تاہم انہوں نے ایک اور فرمائش کی کہ اسے پشاور کے ایک پرانے مجذوب اور دیوانے " حاجی پیرو" سے انکی ملاقات کرائی جائے ،جس پر تھرتھلی مچ گئی۔
سوشل میڈیا پر ’’گھومو پھرو  پاکستان‘‘ فیس بک پیج  کے مطابق پی سی پشاور میں تقریب کے دوران ہندکو میں بھی بات کی اور تھوڑی سی پشتو میں بھی بات کی ۔تاہم انکی فرمائش پر  کہ  " حاجی پیرو" ملاقات کرائی جائے پر حکام کو وختے پڑ گئے ، سرکاری ہرکارے دوڑائے کہ جاؤ ڈھونڈو پشاور کی گلیوں میں اس دیوانے کو،،خیر مرماراکے حاجی پیرو کو آخر کار ڈھونڈ لیا گیا اور نہادھلا کے صاف ستھرے کپڑے پہنا کے اسے دلیپ کمار سے ملوایا گیا ۔ دلیپ کمار نے اسے گلے لگایا اور ملکر بہت خوش ہوئے ۔
حاجی پیرو پرانے پشاور کا ایک دلچسپ کردار تھا ،جو کہ پرانے پشوریوں کو اب بھی یاد ہے۔چھوٹے سر کا عموماً ملیشیا  کپڑے پہنتا تھا ۔ایسے چھوٹے سروں والوں کو " شاہ دولے کے چوہے کہتے تھے اور یہ جینیاتی بیماری ہے جسے Microcephalic کہتے ہیں ۔ حاجی پیرو ایک بے ضرر انسان تھا جو کہ سارا دن اندرون شہر کی گلیوں میں مٹر گشت کرتا رہتا تھا ، کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا ۔جس دکان پر کھڑا ھو جاتا دکاندار اسکو کچھ نہ کچھ کھلا دیتا تھا ۔
  پشاور کا ہر باشندہ  حاجی پیرو سے واقف تھا ، اور گلی کے بچےانہیں ’’ حاجی پیرو، لکڑی چیرو‘‘کہہ کے چھیڑتے تھے۔کئی خدا ترس لوگ اس کو نہلاتے بھی تھے اور نئے کپڑے بھی پہناتے تھے۔عموماً رات کو گھنٹہ گھر کے پاس ایک دکان کے تھڑے پر سو جاتا تھا ۔صبح جب مالک دکان کے آتے تو حاجی پیرو کو ناشتہ کراتے تھے
انکو بہت پیار تھا حاجی پیرو سے ۔اسی طرح پشاور کے متمول تاجر حاجی پیرو کا بہت خیال رکھتے تھے ۔

اب نا وہ پیار کرنے والے لوگ رہے اور نا حاجی پیرو اور نا وہ آوازیں ’’ حاجی پیرو، لکڑی چیرو‘‘ ’’ حاجی پیرو، لکڑی چیرو‘‘

فیس بک پیج پر بہت سےپیار بھرے  کمنٹس آئیں ہیں۔۔۔ ایک صارف نے لکھا ہےکہ ’’ دلیپ کمار نے اسے 1000روپے دیئے تھے‘‘۔۔۔ایک صارف نے لکھا کہ ’’میں نے اپنے والد سے حاجی پیرو کے بارے میں بہت دفعہ سنا ‘‘۔۔۔ ایک  صارف جاوید اقبال شنواری نے اپنےکمنٹس میں لکھا کہ ’’یہ مستانہ حاجی پیرو اکثر گھنٹہ گھر ، قصہ خوانی بازار کی پشت پر تاوانی ھوٹل کے قریب ان جگہوں پر گھومتا رہتا تھا بچے اسے،، حاجی پیرو لکڑی چیرو ،، کہہ کر پکارتے ، لیکن یہ شخص آ پنی دھن میں مست رہتا تھا ، جب ھم آ پنے آبائی علاقے سے دوسرے ایریا کے نئے گھر میں شفٹ ھوئے پھر موصوف سے ملاقات نہیں ھوئی ، چونکہ دلیپ کمار کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا تو اسے یاد رہ گیا تھا ، اللہ سبھی مرحومین کی مغفرت کیساتھ درجات کی بلندی عطا فرمائے َ۔ آمین‘‘۔۔ اس طرح ایک صارف  فضل رحیم اعوان نے لکھا کہ حاجی پیرو  اکثر اوقات گھنٹہ گھر کے آس پاس ہی گھومتے تھے ۔ بعض شرارتی بچے اسے تنگ بھی کرتے تھے مگر جوابا" وہ خاموش رہتے تھے ۔ میں نے ساٹھ کی دہائی میں اسے دیکھا تھا ۔ ہمیشہ ملیشیا کے کپڑوں میں ملبوس ھوتے دیکھا ھے ۔ کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگتے تھے ۔ کسی نے جو دے دیا کھا لیا ۔ریاض احمد نےتحریر کیا کہ ’’ہم 60 کی دہائی میں مینا بازار مچھی ہٹہ سکول میں پڑھتے تھے وہاں ہمیں اکثر ملتا تھا۔۔ایک صارف مظہر حسین شاہ نے اپنے کمنٹس میں لکھا ہےکہ ’’پرانی یادیں بھی سرمایۂ زندگی ھوتی ھیں دل کو کہیں سے کہاں لے جاتی ییں‘‘۔