ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ملزمہ کی عبوری درخواست ضمانت خارج

لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ملزمہ کی عبوری درخواست ضمانت خارج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ، لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ملزمہ کی عبوری درخواست ضمانت خارج، ایف آئی اے نے ملزمہ کو چیف جسٹس کی عدالت سے نکلتے ہی گرفتار کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا خاتون کے ان پڑھ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جرم میں ملوث نہیں ہوسکتی۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نے ملزمہ فرزانہ کنول کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزمہ فرزانہ کنول اور ڈائریکٹر ایف آئی اے گوجرانولہ عبد القادر قمر پیش ہوئے، وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر، فرہاد ترمذی پیش ہوئے، وکیل مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ ملزمہ کے خالہ زاد نے مقدمہ درج کروایا ، لیبیا جانے والے والے دو تین مسنگ افراد کی وجہ سے مقدمہ درج کروایا گیا۔

کیا ملزمہ نے تفتیش جوائن کرلی ؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم ،جی کرلی ، وقوعہ کی تاریخ کیا ہے؟چیف جسٹس عالیہ نیلم ، وکیل ملزمہ نے کہا وقوعہ کی تاریخ نہیں ہے ۔
رپورٹنگ کی تاریخ 21دسمبر 2024ہے، وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا، وکیل ملزمہ نے کہا لیبیا کشتی حادثے میں ملزمہ کا کوئی کردار نہیں ، یہ ان پڑھ اور گھریلو خاتون ہے،ایف آئی آر میں ثاقب ججہ سمیت 2نامزد ملزمان ہیں جو بھاگے ہوئے ہیں،

وکیل صفائی نے کہا خاتون 6بچوں کی ماں اور گھریلو خاتون ہے،چیف جسٹس نے وکیل صفائی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا لیبیا حادثہ میں بھی لوگوں کے بچے مرے ہیں، یہ کیسے ہوسکتا کہ ملزمہ کو پتہ نہ ہو۔

وکیل وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ ملزم ثاقب کے اکاؤنٹ سے 2کروڑ ملزمہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے ، چیف جسٹس نے کہا آپ کے کیا اتنے وسائل ہیں کہ آپ کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم ہو؟

ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ میرا خاوند ڈرائیور ہے، اتنے وسائل نہیں ، میرا اکاؤنٹ میرے داماد نے بنوایا تھا ، جو ملزم ہے ،عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی عبوری ضمانت خارج کردی۔