ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سُروں کے شہنشاہ مہدی حسن کوبچھڑے13 برس بیت گئے

سُروں کے شہنشاہ مہدی حسن کوبچھڑے13 برس بیت گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :شہنشاہ غزل مہدی حسن کو دنیا سے گئے 13 برس بیت گئے لیکن ان کی گائی ہوئی غزلیں اورگیت انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔

  18 جولائی 1927 کو راجستھان کے گاؤں لونا کے موسیقار گھرانے کلاونت میں پیداہونے والے مہدی حسن نے  6 سال کی عمر میں ہی اپنے والد اُستاد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان سے موسیقی کی تربیت لیناشروع کردی تھی جودُھرپد گائیکی کے ماہر تھے،ان کے خاندان نے کئی نسلوں تک  موسیقی کی خدمت کی تھی۔

 

 مہدی حسن کم عمری میں ہی ٹھمری،خیال اور دادرا سمیت کئی راگوں میں پختہ ہو گئے اور 8 سال کی عمر میں مہاراج گوالیار کے دربار میں فن کا مظاہرہ کیا،1947 میں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے،ان کی ابتدائی زندگی سخت جدوجہد سے عبارت تھی،پاکستان آکر محنت مزدوری کی،نوجوانی میں پہلوانی بھی کی اورساتھ ساتھ گلوکاری کا شوق زندہ رکھا,ابتدا میں سائیکلوں کے پنکچر لگایا کرتے تھے، کچھ عرصہ موٹر مکینک بھی رہے لیکن  اس دوران بھی ریاض جاری رکھا۔

 

 1950ء کی دہائی میں قسمت مہدی حسن پرمہربان ہوئی جب ان  کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا جنہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور میں ہونے والی موسیقی کانفرنس میں انہیں غزل گانے کا موقع دیا اور مہدی حسن کو ایک نئی راہ مل گئی,1960ء کی دہائی میں ان کی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل "گلوں میں رنگ بھرے" ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی، انہوں نے ”گلوں میں رنگ بھرے“ اس خوبصورتی سے گائی کہ فیض احمدفیض کو بھی کہنا پڑا تھا ”بھئی یہ اب میری غزل نہیں رہی بلکہ مہدی حسن کی غزل بن گئی ہے۔“ یہی گائیکی کی معراج ہے.

 

 1962 میں انہوں نے پاکستانی فلم ”شکار“کے لیے پہلی مرتبہ گیت ریکارڈ کرایاجس کے بعدمتعدد فلموں میں سدا بہار گیت گائے،انہوں نے 365 سے زائد فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایااورفلمی صنعت میں ان کی آواز کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی،ان کے گائے ہوئے مقبول گانوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں گلوں میں رنگ بھرے، یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم،اب کہ ہم بچھڑے،پیار بھرے دو شرمیلے نین،اِک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا، رنجش ہی سہی،ہمیں کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے،یوں زندگی کی راہ میں ٹکراگیا کوئی،زندگی میں توسبھی پیار کیا کرتے ہیں،دل ویراں ہے تیری یاد ہے،مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو،یہ کاغذی پھول جیسے چہرے،جو درد ملا اپنوں سے ملا،رقص زنجیر پہن کربھی کیا جاتا ہے،رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہوگئے اور دیگر شامل ہیں۔

 

 انہوں نے40سال تک فن موسیقی کے افق پر حکمرانی کی،وہ موسیقی کا ایک پوراعہد تھے اورانہیں بجاطورپر”شہنشاہ غزل“کے خطاب سے نواز گیاتھا،انہوں نے 25 ہزار سے زائد،گیت اور غزلیں ریکارڈ کراکے ایک تاریخ رقم کی،انہیں زندگی میں بے پناہ پذیرائی ملی، جنرل ایوب خان نے ان کی موسیقی کیلئے خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز،جنرل ضیاء الحق نے تمغہ حسن کارکردگی اور جنرل پرویزمشرف نے ہلال امتیاز سے نوازا تھا جبکہ بھارت میں سہگل اور نیپال میں گورکھا دک شینا باہو ایوارڈ سے بھی نوازا گیاتھا۔

 

 60 اور 70 کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی پلے بیک گائیک بن گئے تھے،ان کے گائے ہوئے گانے سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لے کر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو پرفلمائے گئے،لتا منگیشکرنے ان کے بارے میں کہاتھاکہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے جبکہ ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، نیپال کے شاہ بریندرا ان کے احترام میں اٹھ کر کھڑے ہوجاتے تھے اور انہیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد تھیں۔

مہدی حسن کے شاگردوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اْستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے،بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے بھی ان کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

 مہدی حسن 13 جون 2012 کوراہی ملک عدم ہوگئے تھے اورکراچی میں آسودہ خاک ہیں لیکن شہنشاہ غزل کی گائیکی ہماری سماعتوں میں ہمیشہ رس گھولتی رہے گی۔