ویب ڈیسک:بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور رکنِ پارلیمنٹ ہیما مالنی نے موجودہ دور میں فلموں سے دور رہنے کی وجہ پہلی بار تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج کی فلمسازی ان کے دور سے بالکل مختلف ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ نئی فلموں میں کام کرنے میں خود کو زیادہ موزوں نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے ماضی کو بھارتی سنیما کا ’’سنہرا دور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں خواتین پر مبنی مضبوط کردار، خوبصورت کہانیاں اور یادگار موسیقی فلموں کی پہچان ہوا کرتی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق77سالہ خوبصورت اداکارہ آخری مرتبہ سال2020 میں ریلیز ہونیوالی فلم ’’شملہ مرچی‘‘ میں نظر آئی تھیں، ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے فلمی سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں بھارتی سنیما کے سنہرے دور میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ہیما مالنی نے کہا کہ وہ بالکل مختلف زمانہ تھا، میں سمجھتی ہوں کہ وہ فلم انڈسٹری کا سنہرا دور تھا اور میں خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں کہ اس شاندار سفر کا حصہ بنی۔ اس دور میں بے شمار خوبصورت فلمیں بنیں، خاص طور پر خواتین پر مبنی فلمیں، جن میں مجھے ‘سیتا اور گیتا’ جیسے مضبوط کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے اپنی پہلی فلم ’’سپنوں کا سوداگر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فلمی سفر کا آغاز بھی ایک یادگار تجربہ تھا، جبکہ اس کے بعد تقریباً 200 فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق اس دور میں فلموں کی کہانی، موسیقی اور کرداروں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔
لیجنڈری اداکارہ نے مزید کہا کہ ان دنوں تقریباً ہر فلم میں پانچ یا چھ گانے ہوتے تھے اور پروڈیوسرز کیلئے ایک سپر ہٹ گانا فلم کی کامیابی کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ موسیقی فلموں کی روح ہوا کرتی تھی۔ ہیما مالنی نے موجودہ دور کی فلم سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج فلم بنانے کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے، بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اب فلموں میں کیوں نظر نہیں آتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج جس طرح کی فلمیں بن رہی ہیں، ان کے مطابق خود کو ڈھالنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔تاہم ان کے مداح اب بھی امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اگر کسی مضبوط اور منفرد کردار کی پیشکش ہوئی تو وہ ایک بار پھر بڑے پردے پر اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گی۔
واضح رہے کہ اداکارہ ہیما مالنی نے1967میں راج کپور کے مدمقابل فلم ’’سپنوں کا سوداگر‘‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا۔ اس کے بعد اگلی چھ دہائیوں میں وہ بھارتی سنیما کی کامیاب ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔ انہوں نے ’’سیتا اور گیتا‘‘، ’’شعلے‘‘، ’’ڈریم گرل‘‘، ’’ستے پہ ستہ‘‘، ’’دی برننگ ٹرین‘‘، ’’کرانتی‘‘، ’’ترشول‘‘ اور ’’باغبان‘‘ جیسی سپر ہٹ فلموں میں اپنی یادگار اداکاری سے لاکھوں مداحوں کے دل جیتے۔ ان کرداروں نے نہ صرف انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔