ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ، دو افراد کی مبینہ بازیابی کیس ، پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ، دو افراد کی مبینہ بازیابی کیس ، پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ میں دو افراد کی مبینہ بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی, جسٹس سید شہباز علی رضوی کی عدالت میں ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ اور ایس پی اقبال ٹاؤن سدرہ خان پیش ہوئے، عدالت نے  ایس پی اقبال ٹاؤن کو درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سید شہباز علی رضوی نے   دو افراد کی مبینہ بازیابی سے متعلق  سائلہ نادیہ یاسین کی درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ، ایس پی انویسٹیگیشن اقبال ٹاؤن سدرہ خان اور کلیکٹر کسٹمز اینٹی اسمگلنگ سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے استفسار کیا کہ کلیکٹر کون ہیں؟ جس پر متعلقہ افسر نے جواب دیا کہ وہ حاضر ہیں۔ عدالت نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ گزشتہ روز کیوں پیش نہیں ہوئے؟ کلیکٹر کسٹمز نے  غیر مشروط معافی کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ معمولی بات کی وجہ سے عدالت اور افسران کا وقت ضائع ہوتا ہے، آئندہ محتاط رہیں۔عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ سے استفسار کیا کہ کیا مذکورہ افراد پولیس کی تحویل میں ہیں؟ ڈی پی او بلال ظفر شیخ نے عدالت کو بتایا کہ مغوی شیخوپورہ پولیس کی حراست میں نہیں ہیں۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے مطابق  سبزہ زار اور گلشن راوی پولیس نے پہلے انہیں اٹھایا اور بعد ازاں ان کے رشتہ داروں کو بھی نامعلوم افراد لے گئے۔
اس پر عدالت نے ایس پی اقبال ٹاؤن سدرہ خان کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی درخواست پر متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ ایس پی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکم کی تعمیل کی جائے گی۔بعد ازاں عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔