ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کسی صورت مناسب نہیں :مولانا فضل الرحمن

 غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کسی صورت مناسب نہیں :مولانا فضل الرحمن
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان ) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان ناکام خارجہ پالیسی چلا رہا ہے جہاں تمام ہمسایہ ممالک اور دوست ناراض ہیں،افغانستان سے بھی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے۔

 امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 19 فروری کو ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، بورڈ آف پیس کا اجلاس اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنا ہے، بورڈ آف پیس کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کسی صورت مناسب نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان حالات میں ملی غیرت کا مظاہرہ کیا جائے،اسلامی دنیا بھی کسی صورت اس اجلاس میں شرکت نہ کرے،فلسطینیوں کے ساتھ عالمی قوتیں مذاق کر رہی ہیں اور ہمارے حکمران اس میں شریک ہیں، اگر ہمارے حکمران امریکی غلامی پر بضد ہیں تو ہم بھی ان کے خلاف نکلنے کو تیار ہیں۔

  جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ عیدالفطرکے بعد بھر پور عوامی مہم چلائی جائے گی،جے یوآئی نے 12 تاریخ کو مردان میں ملین مارچ کا اعلان کیا ہے،  پاکستان ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کر چکا جسے فلسطینی بھولے نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیا آپ ایک بار بھر وہی عمل دہرائیں گے، فلسطین میں فوج بھیجنا پاکستان کو اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا ہے،پاکستان میں مسلح گروہوں کی کارروائیوں پر ہمیں افغانستان اور ایران سے بات کرنی چاہئے۔

 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن سے غزہ بورڈ آف پیس پر بات چیت ہوئی، پاکستان نے بورڈ کا ممبر بننا قبول کیا اور شرکت کی دعوت بھی قبول کی ،ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گا، کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف کا حصہ بنے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن کے حوالے سے بات کی ہے،پاکستان کو کسی بھی ایسی جنگ میں نہیں جانا چاہئے جس سےنقصان پاکستان اور افغانستان کو ہو، اگر حکومت نے بات نہ مانی تو آنے والے دنوں میں عوام کو موبلائز کریں گے۔