ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس، لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں درختوں کی کٹائی پر اظہار ناراضگی

سموگ تدارک کیس، لاہور ہائیکورٹ کا شہر میں درختوں کی کٹائی پر اظہار ناراضگی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : درختوں کی کٹائی کے معاملے پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی  ڈاکٹر محمد علی اور رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام توہین عدالت کی کاروائی میں لاہور ہائیکورٹ پیش ،درختوں کی کٹائی پر لاہور ہائیکورٹ برہم، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو درختوں کے تحفظ کے لیے ہدایات دیتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل طلب کو طلب کرلیا .

جسٹس  شاہد کریم نے وائس چانسلر کو  درختوں کی کٹائی کے مقدمے میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے اور   پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کے تحفظ کے لیے ایس او پیز بنانے کی ہدایت  کردی ،عدالت نے شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹ پر حکم امتناعی میں  آئندہ سماعت تک توسیع کردی ،عدالت نے آئندہ سماعت پر ایڈوکیٹ جنرل کو طلب کرلیا ، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ درخت کاٹنے والے ملزمان کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں  .

جسٹس شاہد کریم نے  کیس کی سماعت  کی، ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ٹرانسپلانٹ پالیسی کا عدالت نے حکم دیا تھا ، ٹرانسپلانٹ پالیسی کے متعلق  جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا ، جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہر دفعہ پی ایچ اے کے لاء افسر پیش نہیں ہوتے ، کیوں نہ  ڈی جی پی ایچ اے کو طلب کرلیں ،جس تک  پالیسی نہیں بنےگی، کسی پراجیکٹ  میں درختوں کو ٹرانسپلانٹ کی اجازت نہیں دیں گے، وائس چانسلر اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو دئیے گئے شوکاز نوٹس کا لیگل ایڈوائزر شہزاد شوکت نے جواب جمع کروایا گیا ، لیگل ایڈوائزر پنجاب یونیورسٹی شہزاد شوکت نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں کاٹے گئے درختوں میں وائس چانسلر کا کوئی کردار نہیں، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ساری دنیا کو پتہ ہے کہ عدالت نے درخت نہ کاٹنے کا آرڈر دے رکھا ہے،   پنجاب یونیورسٹی میں رات کی تاریکی میں درخت کاٹے گئے ، درخت کاٹنا مجرمانہ عمل ہے،یہ نہیں مانا جاسکتا کہ پنجاب یونیورسٹی میں کاٹے گئے درختوں بارے وائس چانسلر کو پتہ نہ ہو، پنجاب یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر شہزاد شوکت ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شیخ زید اسلامک سینٹر پنجاب یونیورسٹی میں خود مختار ادارہ ہے ، شیخ زید اسلامک سینٹر کے بورڈ اف گورنرز ہوتے ہیں.

  عدالت نے استفسار کیا کہ بورڈ اف گورنرز کا چیئرمین کون ہے، پنجاب یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر نے جواب دیا چیئرمین وائس چانسلر   پنجاب یونیورسٹی ہیں ، استدعا ہے کہ وائس چانسلر اور رجسٹرار کو دیے گئے شو کاز نوٹس واپس لے لیے جائیں،، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ان کا جواب دیکھ لیتا ہوں ، آئندہ ان کے آنے کی ضرورت نہیں ،  وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ بیس ایکٹر پر کمپس ہے ، اس میں میری کوئی مداخلت نہیں ، شیخ زید اسلامک سینٹر میں جو درخت کٹوانے کا زمہ دار ہے اسے عہدے سے ہٹا دیا ہے، درخت کاٹنے کے لیے ہم سے اجازت نہیں لی گئی ، ڈائریکٹر شیخ زید اسلامک سینٹر نے درخت کاٹنے کی اجازت دی،  جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ  لگتا وہ بہت  تگڑا ہے،، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے جواب دیا کہ وہ تگڑا نہیں بے، وقوف ہے،، جسٹس شاہد کریم نے وائس چانسلر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے انکوائری شروع کردی ہے، عدالت نہیں چاہتی کہ آپ یہاں آئیں ، پنجاب یونیورسٹی میں جتنے  درخت ہیں ، پلیز ان کا تحفظ کریں ، وائس چانسلر نے جواب دیا سر پانچ سو درخت لگائیں ، پانچ سو اور لگائیں گے، جسٹس شاہد کریم نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ,ضرورت پڑی تو آپ کو طلب کریں گے ورنہ آپ کے آنے کی ضرورت نہیں ، جب تک ایڈوکیٹ جنرل ذاتی دلچسپی نہیں لیں ، اس طرح  کےکیسز کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی.

Ansa Awais

Content Writer