ملک اشرف : کان کنوں کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کیلئے اقدامات نہ کرنے کا کیس، دوران ڈیوٹی ہلاک مزدوروں کے ورثاء کو 12 سال بعد بھی معاوضہ نہیں ملا۔ عدالت نے ورثاء کو معاوضہ نہ ملنے کی تفصیلات طلب کرلیں۔ متعلقہ محکموں کو جوائنٹ کمیٹی تشکیل ، فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دیدیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے کیس کی سماعت کی ،متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔سماعت کے دوران سیکرٹری لیبر، سیکرٹری معدنیات، سیکرٹری ہیومن ریسورسز اور ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے سیکرٹری معدنیات کو ہدایت کی کہ کان کنوں کی رجسٹریشن کے لیے بنائی گئی ایپ فوری فعال کی جائے ۔
عدالت نے صوبہ بھر میں دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے کارکنوں کے ورثاء کو معاوضہ نہ ملنے کی تفصیلات طلب کر لیں ۔اور صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز سے بھی یہ معلومات طلب کی گئیں۔عدالت نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ جوائنٹ کمیٹی تشکیل دیں اور ہر محکمے کے لیے فوکل پرسن مقرر کریں ۔ جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دئیے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عمران خان عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ۔