اورنج لائن ٹرین کا آزمائشی سفر کروڑوں روپے کی بجلی پی گیا

اورنج لائن ٹرین کا آزمائشی سفر کروڑوں روپے کی بجلی پی گیا

( شاہد ندیم ) اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ پنجاب حکومت کے لئے سفید ہاتھی بننے لگا۔ 

سابق وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف کے دورِ حکومت میں اکتوبر 2015 میں شروع ہونے والا اورنج لائن ٹرین منصوبہ 4 سال بعد مکمل ہونے کو ہے۔ زندہ دلان شہر لاہور میں میٹرو بس کے بعد اورنج لائن ٹرین منصوبے کو شہر کے لیے ’ماس ٹرانزٹ‘ منصوبہ بھی کہا جاتا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اورنج لائن ٹرین کے الیکٹرک ٹرین ٹیسٹ رن کا افتتاح کیا گیا لیکن اس سے قبل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اورنج لائن ٹرین منصوبے کا ڈیرہ گجراں سے لکشمی چوک تک ڈیزل لوکوموٹیو کے ٹیسٹ رن کا افتتاح کر چکے ہیں۔

اورنج لائن ٹرین کا کرایہ 40 سے 50 روپے فی کس مقرر کیے جانے کا امکان ہے، ٹرین میں 200 مسافروں کے بیٹھنے جبکہ 800 مسافروں کے کھڑے ہوکر سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ لیکن چوبرجی پارک سے علی ٹاؤن تک نوے گھنٹے کی آزمائشی سروس پر اورنج لائن ٹرین کروڑوں روپے کی بجلی پی گئی جبکہ دوسرے سرکٹ کو اقبال ٹاؤن ڈویژن کی جانب سے بل بھجوا دیا گیا ہے۔ لیسکو کی جانب سے تین کروڑ تین لاکھ روپے کے بل بھجوائے گئے ہیں۔

ایکسیئن اقبال ٹاؤن ثناء محمد نے بتایا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کو گیارہ میگاواٹ لوڈ پر چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اب تک نوے گھنٹے کے دوران چودہ لاکھ یونٹس استعمال ہو چکے ہیں جن کے بل متعلقہ حکام کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

اورنج لائن ٹرین کو آزمائشی طور پر چلایا گیا جس کے دوران تین کروڑ روپے سے زائد کی بجلی استعمال ہوگئی۔ لیسکو نے اس سے قبل باغبانپورہ ڈویژن میں ایک کروڑ بانوے لاکھ روپے کے بل بھجوائے تھے جو انتظامیہ نے جمع کروا دیئے ہیں۔ اورنج لائن نے آزمائشی سروس کے دوران ساڑنے پانچ کروڑ روپے کی بجلی استعمال کی ہے۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین پر روازنہ ڈھائی لاکھ افراد سفر کر سکیں گے، 2025 تک مسافروں کی تعداد 5 لاکھ مسافر یومیہ تک پہنچ جائے گی جبکہ میٹرو بس کا سفری کارڈ رکھنے والے مسافر اورنج لائن ٹرین پر بھی کارڈ استعمال کر سکیں گے۔