ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کسی کو پولیس مقابلے میں مارنے کی اجازت نہیں، لاہور ہائیکورٹ

کسی کو پولیس مقابلے میں مارنے کی اجازت نہیں، لاہور ہائیکورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:    لاہور ہائیکورٹ میں ملزم کی پولیس حراست میں مبینہ پولیس مقابلہ میں ملزم کی ہلاکت کے متعلق کیس کی سماعت .سی پی او گوجروانولہ سرفراز احمد فلکی سمیت دیگر پولیس افسران عدالت پیش ہوئے۔عدالت کا نامکمل پولیس فائل  پیش نہ کرنے پر اظہاربرہمی .عدالت نے 16 اگست کوآر پی او گوجروانولہ ، سی پی او گوجروانولہ کو مکمل ریکارڈ سمیت پیش ہونے کاحکم دے دیا.

تفصیلات کے مطابق جسٹس علی ضیاء باجوہ نے زبیدہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ  کیسا پولیس مقابلہ ہے کہ تین بندے ملزم کو 14 پولیس والوں سےچھڑواکرلےگئے۔  انہیں کی فائرنگ سے وہ ہلاک ہوگیا اور پولیس کوخراش تک نہیں آئی ۔اس کیس کو انجام تک پنچایا جائے گا۔ جو ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے حکم دیا کہ سی پی او اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن تفتیش کی خود نگرانی کرے ۔

درخواست گزار خاتون کی جانب سے چوہدری عمران رضا چدھڑ ایڈوکیٹ نے کہا دوہزار دس کے مقدمہ میں پولیس نے گرفتار کیا اور گیارہ سال بعد مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا۔جسٹس علی ضیقء باجوہ نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ملزم کے اشتہاری ہونے کا کوئی مجسٹریٹ کاعدالتی حکم موجود ہے۔ عمران رضا چدھڑ ایڈوکیٹ نے کہاپولیس والے پندرہ لاکھ روپے کی بارگیننگ کرتے رہے ۔نہ ملنے پر فرضی پولیس مقابلے میں مار دیا۔اور کسی پولیس والے کو خراش تک نہیں آئی ۔ سی پی او سرفراز احمد فلکی  بولےسیشن جج گوجروانولہ کو جوڈیشل انکوائری کے لئے درخواست دی ہے جو بھی ذمہ دار نکلا کاروائی کریں گے۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کہا ایس ایس پی سید علی اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر ہیں ۔یہ سی پی او کے ساتھ ملکر معاملہ دیکھیں ۔ یہاں عدالت میں ہوئی خواتین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔۔اگر بیوہ خاتون پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ملزم کا دوبارہ ملاحظہ کروانا چاہتی ہے تو اس کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔عدالت نے کہا کہ کسی نے کتنا بڑا جرم ہی کیوں نہ کیا ہو اسے مبینہ پولیس مقابلے میں مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے وکیل  سے کہا کہ آپ سی پی او سے رابطہ کرکے اپنے موقف بارے انہیں اگاہ کریں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی۔