ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا منہ توڑ جواب ،اہم مرکز سمیت متعدد پوسٹیں تباہ، 19 پر قبضہ

افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا منہ توڑ جواب ،اہم مرکز سمیت متعدد پوسٹیں تباہ، 19 پر قبضہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف سے بِلا اشتعال فائرنگ پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے کئی چیک پوسٹوں کو تباہ جبکہ متعدد افغان فوجیوں اور خوارج کو ہلاک کردیا، افغان طالبان ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے پاک افغان سرحد پر 6 مقامات انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ (بلوچستان) کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی، فائرنگ کا مقصد خوارج کی تشکیلوں کو بارڈر پار کروانا بھی تھا۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے کارروائی کے دوران افغان فورسز کی 19 اہم سرحدی پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

 سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی چوکس اور مستعد پوسٹوں کی جانب سے تیزی کے ساتھ بھرپور اور شدید جواب دیا گیا جو اب بھی جاری ہے، پاک فوج نے فوری طور پر شدید رد عمل دیتے ہوئے متعدد افغانی پوسٹوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔

 ذرائع کے مطابق پاکستان کی بروقت کارروائی سے افغانستان کی متعدد بارڈر پوسٹیں تباہ، درجنوں افغان فوجی اور خارجی دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

 پاکستان نے طالبان کے منوجیا کیمپ بٹالین ہیڈ کوارٹرپر کامیاب اسٹرائیک کی اور منوجیا کیمپ بٹالین ہیڈ کوارٹرزمکمل طور پرتباہ کر دیا گیا، کیمپ میں موجود درجنوں طالبان سپاہی اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 ذرائع نے بتایا کہ افغان حدود سے پاکستان پر ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ کے جواب میں رات گئے سے جاری جوابی آپریشن میں پاک فوج نے نہ صرف اہداف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا بلکہ ان پوسٹوں پر بھی قبضہ کر لیا جہاں سے پاکستانی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

 سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے پاک افغان بارڈر کے قریب موجود خوارج اور داعش کے دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا جاررہا ہے جبکہ افغان فورسز کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہیں۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان اپنی متعدد پوسٹیں چھوڑ کر بھی فرار ہو گئے جبکہ لاشیں بکھری ہوئی ہیں، افغانستان کی جانب سے یہ جارحیت اُس وقت کی جا رہی ہے جب افغان وزیر خارجہ ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔

 پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان پوسٹیں تباہ
پاک فوج نے باجوڑ کے سامنے کنڑ افغان پوسٹ تباہ کردی گئی، پوسٹ میں آگ لگی ہوئی نظر آ رہی ہے، افغان پوسٹ کو مکمل طور پر جلتے اورتباہ ہوتے دیکھاجاسکتاہے۔خارجیوں اور افغان فورسز کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کھرچر فورٹ کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق کھرچر فورٹ فتنہ الخوارج کا مرکز تھا جسے مؤثر کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

 سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بارامچاہ سیکٹر میں پاک فوج نے افغان فورسز کو منہ توڑ جواب دیا، افغان فورسز کی شہیدان پوسٹ کو نقصان پہنچا اور متعدد ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے خرلاچی سیکٹر میں افغانی پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق کرّم ایجنسی میں بھی افغان فورسز کی ایک اور چوکی تباہ کر دی گئی جبکہ پاکستانی فورسز نے افغان جنڈوسر پوسٹ بھی تباہ کر دی۔

  سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مؤثر فائر سے لیو بند،قلعہ عبداللہ سیکٹر میں افغانی پوسٹ مکمل تباہ کردی گئی ہے۔

 اس کے علاوہ کنڑ میں بھی افغان پوسٹ تباہ کی گئی جس کے بعد  افغان فوجی پوسٹ پر لاشیں چھوڑ کے بھاگ گئے۔

  علاوہ ازیں سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نےطالبان فورسز کے درانی کیمپ پر کامیاب اسٹرائیک کی اور کیمپ مکمل تباہ کر دیا، درجنوں طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

 سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان نے طالبان فورسز کے درانی کیمپ 2 پرکامیاب اسٹرائیک کی، اورکیمپ مکمل تباہ کر دیا۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق درانی کیمپ 2 میں 50 سے زائد طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں،درانی کیمپ 2 خارجیوں کی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے مرکزی لانچ پیڈ کا کام کرتا تھا۔

 سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان نے طالبان فورسز کے غزنالی ہیڈ کوارٹرز نوشکی سیکٹر کو نشانہ بناکر تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں درجنوں طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 چاغی میں بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان دہشت گردوں پر وار کیے جس میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ کئی چیک پوسٹیں تباہ بھی ہوگئیں۔

 زیرِ قبضہ پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے واضح مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ متعدد افغان طالبان اور سیکیورٹی اہلکار پوسٹیں خالی چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد افغان طالبان کی چوکیوں اور خارجیوں کی تشکیلوں کو بھی بھاری نقصانات پہنچا جبکہ قائمقام افغان حکومت کی سر پرستی میں چلنے والے خوارج اور داعش کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔

 پاکستان کی جانب سے آرٹلری، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، اسکے علاوہ داعش اور خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان فورسز کے اُن ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو داعش اور فتنہ الخوارج کو پناہ دیتے رہے ہیں۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے افغان فورسز کے خلاف بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

  ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ کارروائیوں کے دوران پاکستانی فورسز انتہائی احتیاط سے کام لے رہی ہیں تاکہ صرف وہی اہداف نشانہ بنائے جائیں جو براہِ راست پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اور غیرجانبدار یا سویلین اہداف کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جائے۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے افغانستان کے مختلف علاقوں خصوصاً کابل، پکتیا اور سرحدی پٹیوں پر مسلسل گشت شروع کر دیا ہے، جبکہ ڈرون حملوں کے ذریعے ٹی ٹی پی کے خفیہ ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 ذرائع کے مطابق، ان ٹارگیٹڈ آپریشنز کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے خوارجی گروہوں کی پشت پناہی کو توڑنا اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں، کمانڈ سینٹرز اور اسلحہ کی ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔