ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مل کر بیٹھیں گے تو مسئلہ کا حل نکلے گا : گورنر فیصل کریم کنڈی

مل کر بیٹھیں گے تو مسئلہ کا حل نکلے گا : گورنر فیصل کریم کنڈی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ہم مل کر نہیں بیٹھیں گے تو مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا۔

پشاور میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کو ایک ہال میں جمع کرنے پر اسپیکر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، سمجھتا ہوں کہ ہمیں ماضی کو بھلانا ہوگا، مستقبل کا سوچنا ہو گا۔

 فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی کہ ہمارے پڑوس میں افغانستان ہے، ہمارے تمام شعبہ زندگی کے لوگوں نے شہادتیں پیش کیں، جب تک صوبائی حکومت، وفاق اور سیکیورٹی ادارے ساتھ نہیں بیٹھتے امن اور ترقی ممکن نہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ہم نے نوجوانوں کو درست سمت پر ڈالنا ہوگا، ہم نے وفاق کے ساتھ بات کرنے کے لیے اپنی سیاسی جماعتوں کو سائیڈ پر کرنا ہو گا، ہماری ترجیح ہمارا صوبہ ہونا چاہیے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے وفاق کے ساتھ دلائل سے بات کرنا ہوگی، ہمیں اپنی سمت کو ٹھیک کرنا ہوگا، اس وقت تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔

 گورنر نے کہا کہ صوبے کے حق حاصل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ ہیں، اسپیکر صاحب کمیٹی بنائیں، ہر جماعت کا ایک نمائندہ لیں۔

 امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش امن کیلئے ہے، دہشتگردی کے ناسور کے خلاف آج کے جرگے میں پائیدار حل نکلے گا، امن تب قائم ہوگا جب دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے ہوں گے اور دہشتگردی کے خلاف طویل المدتی پالیسی اپنانی ہوگی، سب نے قربانیاں دی ہیں، این ایف سی شیئر 400 ارب روپے بنتے ہیں ہمیں نہیں مل رہے ہیں، اگر ایک فیصد دہشتگردی کے باعث ملتا ہے تو کسی کو اس بارے پوچھنے کا حق نہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ سیاست ہر ایک کی اپنی اپنی ہے لیکن امن ہمارا مشترکہ ہے، جب بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا، یہاں بیٹھے ہر فرد نے قربانی دی ہے، دہشت گردی کیخلاف عوام، سیاستدان اور سکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں، سب نے قربانیاں دی تو 2018 میں امن قائم ہوا تھا، ابھی ایک دفعہ پھر دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے۔

 سہیل آفریدی نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کو ہم نے خوش آئند قرار دیا ہے، ہماری کوشش امن کیلئے ہے، جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے۔

 وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا ہم بار بار امن کی بات کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو بُرا لگتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط ہوتے آئے ہیں، ان فیصلوں سے ابھی تک دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔

 ان کا کہنا تھا سیاستدانوں، سکیورٹی فورسز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بیٹھا کر پالیسی بنائی جائے، اگر پھر اس پالیسی پر عملدرآمد ہوگا تو کوئی حل نکلے گا، وہ پالیسی پھر تمام لوگوں کو قابل قبول ہوگی اور خیبر پختونخوا سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔