ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کی جانب سے محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا گیا ہے؛ بیرسٹر گوہر

وزیراعظم کی جانب سے محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا گیا ہے؛ بیرسٹر گوہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: بیرسٹر گوہر نے کہاوزیراعظم کی جانب سے شاید محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا گیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان  نے  اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر مذمت کیلئے الفاظ کا چناو اب مشکل ہوگیا ہے۔ہمیں امید تھی دوسری طرف ایک قدم پیچھے ہٹ کر حالات بہتری کی طرف جائینگے۔دوسری طرف کا سخت رویہ حالات اور ملاقاتوں میں رکاوٹ کا سبب ہے۔بانی اور انکی اہلیہ کی بگڑتی صحت پر فیملی کو ملاقات نہ دینا سخت گیر رویہ ہے۔

اب وقت اور حالات کا ادراک کرکے عوام کی منشا کے خلاف مزید اقدامات نہ کریں۔سخت گیر رویہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوگا.سیاسی مسائل کو سلجھانے کی ضرورت ہے اسکو پیچیدہ نہ کریں۔

حکومت آنے والی ترامیم پر عوام کے سامنے اپنا موقف واضع کریں۔ایک تشویش یہ بھی ہے اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کیا جارہا ہے۔مضبوط صوبے مضبوط وفاق کی علامت ہے۔عدلیہ سے بھی درخواست ہے کیسز میں تفریق نہ ڈالیں۔عدلیہ سے عوام کی امیدیں مدہم پڑ رہی ہیں۔

آج بھی بشری بی بی کی درخواست پر تاریخ دے دی گئی۔حالات کو بہتر کرنا ہے تو فیملی کی ملاقاتیں بحال کرنی پڑیں گی۔.بانی اور بشری بی بی کی فیملی اور ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے۔کے پی میں دہشتگردی پر ہمارے کنسرن ہیں یہ بہت بڑا مسلہ ہے۔دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیئے۔دہشت گردی اور انکے سہولت کاروں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔دہشتگردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔وزیراعظم کی جانب سے شاید محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا گیا ہے۔

وزیر قانون نے بھی اقلیتی کمیشن میں کے بارے رابطہ کیا ہے۔الیکشن کمیشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کیلئے بھی ملاقات ہونی ہے۔اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے فریقین میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔

حکومت کو دروازے کھولنے چاہیئے بداعتمادی سے حالات بہتر نہیں ہونگے۔دفعہ 144 لگانے کی کیا ضرورت ہے فیملی کو ملاقات دیں۔بانی کو چار مرتبہ بشری بی بی کو تین مرتبہ ہسپتال لے کر گئے۔فیملی اور پارٹی کو نہیں معلوم انکی صحت کی صورتحال کیا ہے۔

تصادم کی طرف حالات نہیں لے کے جانے چاہیئے۔مزاکرات ضرور ہونے چاہیئے مذاکرات کا مینڈیٹ اچکزئی صاحب کے پاس ہیں۔ عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے فریقین کے مابین بداعتمادی ختم کرنی پڑے گی۔

وزیر اعلی کے پی نے اڈیالہ آنے کا کہا ہے تصادم کی بات نہیں کی ہے۔ہم نے ہر عدالتی حکم کی پابندی کی ہے۔کارکنان کا لیڈر شپ پر غصہ جائز ہے۔ہم مانتے ہیں ہم کارکنان کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔میں اسی لئے کہتا ہوں سخت گیری حالات کو تصادم کی طرف لے جائیں گے۔ہم سمجھے ہیں ایک وقت پر ہمارے ہاتھوں سے بھی چیزیں نکل جائینگی۔بانی سے ملاقاتوں اور علاج پر اچکزئی صاحب نے میں نے بھی کل اسمبلی میں بات کی۔

ہم بے اسپیکر سے رولنگ مانگی تھی لیکن حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔