ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں اندراجِ مقدمہ سے متعلق کیس کی سماعت، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کو آئندہ سماعت پرجامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم، کیس کے فریق زاہد عباسی کو بھی عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی ۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے شہری خالد محمود کی درخواست پر سماعت کی، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شاہد نواب چیمہ اورمتعلقہ افسران پیش ہوئے۔ لاءافسر نےکیس کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ “کرن” نامی لڑکی نے پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد مختلف مقدمات اوردرخواستیں سامنے آئیں۔ زاہدعباسی نے تھانہ مصطفی آباد میں مقدمہ درج کروایا تھا کہ اس کی بیوی اورسالی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ لاءافسر کے مطابق بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں جعلسازی کی گئی اور بعض دعوے حقائق کے برعکس تھے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ کیس کی ایک فریق ثمینہ نےمبینہ طور پر خودکشی کرلی، تاہم اس کا پوسٹمارٹم نہیں ہوا اور نہ ہی باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نےتشویش کا اظہارکرتے ہوئے استفسار کیا کہ متوفیہ کے ورثاء کیا مؤقف رکھتے ہیں۔ عدالت نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو ہدایت کی کہ ثمینہ کے ورثاء کا دوبارہ بیان ریکارڈ کیا جائے۔عدالت نے زاہدعباسی کی عدم موجودگی پربھی برہمی کا اظہارکیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پرانہیں ہر صورت پیش کیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر زاہد عباسی کی درخواست غلط ثابت ہوئی تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔مزید سماعت 20 مئی تک ملتوی کردی گئی۔