سٹی 42: ایم کیو ایم نے وزیر اعظم سے کراچی و حیدرآباد کیلئے 40 ارب ، سندھ کی گورنر شپ جیسے تین مطالبات کردیے ۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے راہنما فاروق ستار نے پارلیمنٹ میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکچھ دیر قبل وفاقی وزیر خزانہ نے وفاقی بجٹ پیش کیا. آج صبح ہماری وزیر اعظم سے تین بنیادی مطالبات پر ملاقات ہوئی۔
ہم نے وزیر اعظم سے کراچی و حیدرآباد کے لئے 40 ارب روپے کا مطالبہ کیا۔بجٹ میں اعداد و شمار مختلف ہیں۔
سندھ کی گورنری ایم کیو ایم کا حق ہے اس کا مطالبہ کیا۔ہماری بات سنی گئی تاہم منظوری نہیں دی گئی۔
ہماری سفارتکاری میں وزیر اعظم اور چیف اف ڈیفنس فورسز کی کارکردگی دنیا نے دیکھی۔عوام بھی توقع کر رہی تھی کی اب بجٹ عوام دوست ہو گا۔
نیا ٹیکس نہیں لگا تاہم پہلے ہی ٹیکسوں کی بھرمار موجود ہے۔بلواسطہ ٹیکس کے بوجھ کو اور کم کرنے کی ضرورت ہے۔گیس بجلی کی قیمتوں کو بھی کم کریں۔عوام کی ایک تعداد کو ایک وقت کا کھانا میسر ہے۔ہمیں ان پر رحم کرنا چاہیے۔
بڑے جاگیرداروں سے 600 ارب اور ایف بی ار ذیلی محکموں سے کرپشن روک کر 600 نکال سکتے ہیں۔پیٹرولیم ٹیکس اور۔ لیوی کو ختم کر کے عام آدمی کو جینے کا موقع دیں
اس وقت دنیا میں پاکستان کے لئے مواقع موجود ہیں ۔اس وقت بجٹ کو عوام دوست ہونا چاہئے۔آئی پی پیز کے کیپیسٹر چار جیز کو مزید 20 فیصد کم کیا جائے۔
موجودہ بجٹ عوام کی توقعات پر بالکل پورا نہیں اترتا۔کراچی اور ڈی ایچ اے کو نئے آنے والے پانی کی منصفانہ تقسیم سے خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔کراچی کے لئے دس ارب روپے ناکافی ہیں۔اس مرتبہ ہمیں اپنے سوالات کا واضح جواب چاہئیے
حکومت کو ہمارے مطالبات پر بہرصورت منظور کرنے ہوں گے۔اپنے شیڈو بجٹ میں ایم کیو ایم نے 64 ارب روپے ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئے مختص کئیے ہیں۔وفاقی بجٹ میں ماحولیات پر اگر کوئی خطیر رقم نہیں رکھی گئی تو ہم مصدق ملک سے اس پر بات کریں گے