سٹی42: ائیر انڈیا کا ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو جانے والا بوئنگ 8-787 ڈریم لائنر بظاہر ٹھیک تھا لیکن اس خاص ماڈل کے متعلق تکنیکی مسائل کو کافی عرصہ سے ڈسکس کیا جا رہا تھا۔ بوئنگ 8-787 ڈریم لائنر کے یوں گر کر تباہ ہو جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
احمد آباد ائیر پورٹ کے قریب گرنے والے طیارے کو کیا ہوا تھا یہ تو طیارے کی باقیات، بلیک باکس اور دیگر شواہد کے مفصل تجزیہ کے بعد ہی متعین ہو سکے گا، اس حادثہ کے بعد سے البتہ بوئنگ کے اس خاص ماڈل کے تکنیکی مسائل ماہرین کی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔
بھارت کی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں ائیر انڈیا کا سینکڑوں مسافروں سے بھرا ہوا بوئنگ طیارہ آج پرواز کے چند لمحے بعد گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے تاہم ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔
حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بوئنگ کا 8-787 ڈریم لائنر تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ کی طیارہ سازی کی صنعت میں مارکیٹ لیڈر کمپنی بوئنگ کا اس ماڈل کا طیارہ کسی جان لیوا حادثے کا شکار ہوا ہے۔
ائیر انڈیا کے اس طیارے کے متعلق جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق یہ طیارہ 2011 میں سروس میں آنے کے بعد سے کئی مسائل کا شکار رہا ہے۔
بناوٹ میں خرابی
بھارتی میڈیا کے مطابق 2024 میں بوئنگ کے انجینئر سام صالح پور نے 787 ڈریم لائنر کی پائیداری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، انہوں نے الزام لگایا تھاکہ بوئنگ کمپنی نے طیارے کے فیوزیلاژ کی تیاری میں شارٹ کٹ اختیار کیے جو وقت کے ساتھ تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
سام صالح پور دس سال سے زائد عرصے سے بوئنگ میں کام کر رہے تھے، انہوں نے جنوری 2024 میںیہ نکتہ اٹھایا کہ طیارے کی اسمبلی کے دوران فیوزیلاژ کے حصوں کو درست طریقے سے جوڑا نہیں گیا اور بعض اوقات ورکرز کو طیارے کے حصوں پر چھلانگیں لگاتے دیکھا گیا تاکہ طیارے کے وہ خاص حصے عارضی طور پر اپنی جگہ پر فٹ ہو سکیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سام صالح پور نے اس وقت امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو ہوائی جہاز کے حصوں پر کودتے دیکھا تاکہ انہیں سیدھ میں لایا جا سکے‘۔
تاہم امریکی اخبار نے گزشتہ سال رپورٹ کیا تھا کہ بوئنگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے 787 کی کارکردگی پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
لیتھیم بیٹری؛ تکنیکی مسائل
برطانوی اخبار کے مطابق اپنی سروس کے ابتدائی برسوں میں ہی 787 کو متعدد تکنیکی مسائل کا سامنا رہا جن میں خاص طور پر لیتھیئم آئن بیٹریوں سے متعلق مسائل بھی شامل تھے۔
2013 کے اوائل میں جاپان ائیرلائنز اور یونائیٹڈ ائیرلائنز سمیت کئی کمپنیوں نے اپنے 787 طیاروں میں بیٹری وائرنگ سے متعلق مسائل رپورٹ کیے۔ اسی سال ایتھوپین ائیرلائنز کے ایک خالی طیارے میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر آگ لگ گئی جس کی وجہ بیٹری سے متعلق مسائل تھے۔
والو کی خرابی سے ایندھن کا رساؤ
نارویجین ائیر لائن کو بھی ایک خراب والو کی وجہ سے ایندھن کے رساؤ جیسے سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔
اس ماڈل کے طیاروں کی مخصوص موسمی حالات میں کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، نومبر 2013 میں بوئنگ نے ایڈوائزری جاری کی کہ جنرل الیکٹرک کے انجن والے ڈریم لائنرز کو طوفانی موسم میں استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ ان انجنوں پر برف کے کرسٹل جمع ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
مارچ 2024 میں لاٹام ائیرلائنز کا 787 دوران پرواز چند سیکنڈ میں 300 فٹ نیچے آگیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار متعدد مسافر زخمی ہوگئے۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طیارے کی بلندی میں آنے والی یہ کمی کپتان کی نشست کے غیر ارادی طور پر آگے کھسکنے کی وجہ سے ہوئی نہ کہ موسم کی وجہ سے۔