سٹی42: اسرائیل کی پارلیمنٹ میں آخری لمحات میں Haredi کے دھڑوں کی حمایت روکنے پر رضامندی کے بعد Knesset کو تحلیل کرنے کا بل آگے بڑھنے میں ناکام ہو گیا۔ پارلیمنٹ تو ٹوٹنے سے بچ گئی لیکن پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو کو لاحق بحران برقرار ہے۔
کنیست کو تحلیل کرنے کے لیے حزب اختلاف کا حمایت یافتہ بل اپنی ابتدائی پلینم ریڈنگ کو پاس کرنے میں ناکام رہا۔ ابتدا مین اپوزیشن کو امید تھی کہ نیتن یاہو کی اتحادی حکومت مین شامل بعض ارکان پارلیمنٹ بھی پارلیمنت کو توڑ دینے کے بل کی ھمایت مین ووٹ دیں گے لیکن نیتن یاہو نے آخری وقت پر کوشش کر کے اپنے اتحادیوں کو پارلیمنٹ توڑنے کی طرف جانے سے روک لیا۔ کنیست مین ہریدی فرقہ سے تعلق رکھنے والے بیشتر قانون ساز اس تجویز کی حمایت نہ کرنے پر راضی ہو گئے۔ جس کے بعد ہونے والی گنتی میں قانون سازوں نے اسے 61-53 سے مسترد کر دیا۔
اگوداتھ اسرائیل دھڑے کے قانون ساز اس وقت تقسیم ہوگئے جب ہاسیڈک دھڑے نے کہا کہ وہ بل کی حمایت کرے گا، اس کے دو ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کو توڑنے کے حق میں ووٹ دیا اور ایک نے اس اقدام کی مخالفت کی۔
اس بل کی منظوری میں ناکامی کا مطلب ہے کہ اپوزیشن دوبارہ چھ ماہ کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی تحریک پیش نہیں کر سکتی۔
بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو گزشتہ کئی ماہ سے اپوزیشن کی پارٹیوں کے سخت دباؤ کے ساتھ کئی ایشوز پر اپنے اتحادی دائیں بازو کے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے بھی پیچیدہ نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کو اپنے ایجنڈا کو رو بہ عمل لانے کے لئے درکار مینڈیٹ حاصل نہیں۔ اس تناظر میں اپوزیشن نے پارلیمنت کو تحلیل کر کے نیا الیکشن کروانے کا بل پیش کیا تو فوج مین جبری شمولیت کے قانون پر حکومت سے خفا ہریدی فرقہ کے ارکان پارلیمنٹ نے بظاہر اس بل کی حمایت کرنے اور نئے الیکشن مین جانے کا عندیہ دیا تھا لیکن ووٹنگ کے وقت ایسا نہیں ہوا۔
اب اپوزیشن ایک بار پھر سڑکوں پر احتجاج پر توجہ مرکوز کرے گی۔
امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے سفارتخانوں، فوجی اڈوں کو خالی کرنا شروع کر دیا اور ایران جوہری مذاکرات سر پر آ گئے۔