سٹی 42: فٹبال کے دوران چہرے اور ناک پر لگنے والی چوٹیں بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ کھلاڑیوں کے لیے طویل المدتی طبی مسائل، خصوصاً سانس لینے میں دشواری، کا باعث بن سکتی ہیں۔
امریکا کے شہر بیورلی ہلز سے تعلق رکھنے والے فیشل پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹو سرجن ڈاکٹر فرہاد اردیش کا کہنا ہے کہ کئی بار ناک پر معمولی سوجن یا ہلکا سا ٹیڑھا پن اندرونی طور پر شدید نقصان کی علامت ہوتا ہے، جس سے ناک کی ساخت متاثر ہو جاتی ہے اور سانس لینے میں مستقل دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فٹبال میں چوٹیں اکثر گیند سے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے سر، کہنی، کندھے، گھٹنے یا ٹکرانے سے لگتی ہیں، جبکہ تیز رفتار تصادم بعض اوقات باکسنگ میں لگنے والے طاقتور مکے جیسا اثر پیدا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ناک کی ہڈی ٹوٹنے یا اندرونی ساخت متاثر ہونے کی صورت میں بروقت علاج نہ کیا جائے تو ناک ٹیڑھی ہونے، سانس کی دائمی تکلیف اور بعد ازاں سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہترین کارکردگی کے لیے کھلاڑیوں کا درست انداز میں سانس لینا انتہائی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں کئی معروف فٹبالرز چہرے کی چوٹ کے بعد حفاظتی ماسک پہن کر میدان میں اترے، جن میں فرانس کے کیلیان ایمباپے، انگلینڈ کے جیڈ اسپینس، آسٹریا کے اسٹیفن پوش، الجزائر کے گول کیپر لوکا زیدان اور کروشیا کے جوسکو گواردیول شامل ہیں۔