ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا، ایران کشیدگی:ایران پر امریکی حملےایران کے بھی خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر جوابی حملے

امریکا، ایران کشیدگی:ایران پر امریکی حملےایران کے بھی خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر جوابی حملے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔ ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایاجبکہ پاسدارن انقلاب نے آبنائے ہرمز دوبارہ بندکرنے کا دعویٰ کیا ہےجبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر جوابی حملے کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران ایران کے 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 140 اہداف پر صرف ہفتے کے روز حملے کیے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، کویت میں ریڈار تنصیب، عمان میں امریکی بحری بیڑے کی معاون تنصیبات اور قطر میں فوجی کمانڈ سہولت کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر نے حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے دفاعی نظام کے ذریعے ایرانی میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بحرین اور دوحہ میں بھی خطرے کے سائرن بجنے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔

ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک خطے میں امریکی مداخلت ختم نہیں ہوتی، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تجارتی جہاز بدستور اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدوں پر عملدرآمد دونوں جانب سے ہونا چاہیے، جبکہ ایرانی رہنما محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا، وعدے پورے کیے جائیں ورنہ اس کی قیمت چکانا ہوگی۔