شارع کے دورے کے دوران شامی اور اسرائیلی عہدیدار آج باکو میں ملاقات کریں گے۔ "اسرائیلی فوج کی شام میں موجودگی" اس ملاقات کا بنیادی موضوع ہو گی۔
اے ایف پی نے بتایا ہے کہ شام کے صدر احمد الشارع کے دورہ آذربائیجان کے موقع پر ایک شامی اور ایک اسرائیلی اہلکار کی آج بعد میں باکو میں ملاقات ہو رہی ہے، دمشق میں ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے آگاہ ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اس ملاقات کے متعلق خبر دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والےشامی ذرائع کا کہنا ہے کہ "باکو میں شارع کے دورے کے موقع پر ایک شامی اہلکار اور ایک اسرائیلی اہلکار کے درمیان ملاقات ہو گی۔"
ذرائع نے زور دیا کہ شارع خود اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی، جس میں دسمبر میں صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے "شام میں اسرائیلی فوجی موجودگی" پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
دسمبر کے آخر میں جب احمد الشارع کی قیادت میں کئی گروپوں نے مل کر دمش پر قبضہ کیا اور بعث پارٹی کے لیدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹا تو اسی وقت اسرائیل کی فوج نے شام میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں جن کا ہدف بشار الاسد حکومت کے ساتھ وابستہ آرمی اور ائیر فورس کی طاقت کے مراکز تھے۔ اسرائیل نے کئی روز تک مسلسل ائیر سٹرائیکس کر کے شام کی فوج کے بیشتر اڈوں کو تباہ کر دیا تھا اور ائیرفورس کے تقریباً سارے انفراسٹرکچر اور لڑاکا جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ اسرائیل کی زمینی فوج نے اسرائیل کے ساتھ ملحق گولان کی پہاڑیوں کے شامی علاقہ پر بھی قبضہ کر لیا تھا اور متعدد دیگر سٹریٹیجک پوائنٹس پر کنٹرول کر لیا تھا جو غالباً اب تک برقرار ہے۔
احمد الشارع کی حکومت بظاہر اسرائیل کی شام میں موجودگی نہیں چاہتی لیکن شام میں حکومت بنانے کے بعد گزشتہ ساڑھے چھ ماہ میں الشارع کی حکومت نے عملاً اسرائیلی فوج کو واپس بھیجنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ احمد الشارع کو جہادی بیک گراؤنڈ کا حامل لیکن اب اعتدال پسند ہونے کا دعویدار رہنما سمجھا جا رہا ہے، ان کے اسرائیل کے متعلق خیالات اب تک پوری طرح سامنے نہیں آئے لیکن چھ ماہ کے دوران یہ تاثر بڑھا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بقائے باہم اور عدم مداخلت کی بنیاد استوار پر مستقبل کے تعلق کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔
اسرائیل کے شام کی بشار الاسد حکومت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے، بشار کے والد حافظ الاسد اسرائیل کے ساتھ دو جنگوں میں پیش پیش رہے تھے، ان جنگوں کے نتیجے مین شام کو گولان میں کچھ علاقہ سے محروم ہونا پڑا اور کچھ علاقہ اسرائیل نے اپنے مستقل قبضہ میں لے لیا جب کہ کچھ علاقہ پر اوام متحدہ کی نگرانی میں رہنے والا بفر زون بن گیا ، اب بشار کی ھکومت ختم ہونے کے بعد اسرائیل اس بفر زون سے بھی آگے بڑھ کر گولان کے پہلے شامی عملداری مین رہنے والے علاقے پر کنترول کئے ہوئے ہے۔
بشار الاسد کی حکومت کے خلاف 14 سال تک جاری رہنے والی بغاوت کے دوران اسرائیل نے بشار کی حکومت کو بار بار حملوں کو نشانہ بھی بنایا تھا اور شام میں موجود ایرانی عہدیداروں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا تھا جن میں پاسداران کا ایک سینئیر ترین جنرل بھی شامل تھا۔