ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کی تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کردی۔
اٹارنی جنرل آفس سے جاری ہونے والے ایک خط میں پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ مجوزہ میڈیکل بورڈ نواز شریف کی لندن میں مصروفیات کا بھی جائزہ لے۔ خط کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف کی صحت سے متعلق آٹھ دستاویزات جمع کرائیں گئی ہیں اور آخری دستاویز 8 جولائی 2021 کو لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی۔ 11 جنوری کے کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی جانب سے ضمانت کے غلط استعمال کا معاملہ زیر بحث آیا۔میڈیکل بورڈ عدالت میں جمع کرائی گئی تمام میڈیکل رپورٹس ماہرانہ رائے دے۔
ماہرین کی آراء کی روشنی میں ہی نواز شریف کی واپسی سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طبی ماہرین نے نواز شریف کی صحت بہتر قرار دی تو ان کے معالج سے رابطہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے نواز شریف کی عدم واپسی پر ان کے ضامن شہباز شریف کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ کابینہ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ اس حوالے سے تمام قانونی آپشنز پر غور کرتے ہوئے عدالتوں سے رجوع کریں۔
کابینہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے عدالت میں بیان حلفی اور ضمانت واپسی کی خلاف ورزی کا مذاق اڑایا ہے۔ سابق وزیر اعظم جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد نومبر 2019 میں علاج کے بیرون ملک گئے تھے تاہم وہ اب تک واپس نہیں آئے