(ارشاد قریشی) بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کیلئے آنے والے کسی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ایم پی اے عبدالسلام آفریدی، امتیاز شیخ اور مشرف آفریدی، اظہر خان، اویس یونس واپس روانہ ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ایم پی اے عبدالسلام آفریدی نے دیگر رہنماوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہہم عدالتی احکامات پر ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل آتے ہیں۔پنجاب پولیس نہ کسی قانون کو مانتی ہے نہ آئین کو مانتی ہے۔پارلیمنٹیرینز کو بھی جیل کی طرف جانے سے روک دیتے ہیں۔قانون کے مطابق ہمارا اپنے لیڈر سے ملنے کا حق ہے۔بانی نے اس ملک کو ہمیشہ دیا ہے کچھ نہیں لیا۔بانی نے عوام کیلئے شوکت خانم ہسپتال بنایا اور نمل یونیورسٹی بنائی۔جو لوگ اس ملک سے مال چوری کرکے لے گئے انکو حکومت میں بٹھا دیا گیا۔جس نے 190 ملین پاونڈ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں جمع کرائے اسکو جیل میں ڈالا۔و بھی پاکستان سے محبت کرتا اسکے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔
عبدالسلام آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹ اور چور لوگوں کو اقتدار میں بٹھایا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا ہوا سب نے دیکھا۔ہم عدالتی احکامات پر آتے ہیں ہمیں کون نہیں ملنے دے رہا اسے سوال پوچھا جانا چاہئے۔پارٹی لیڈر شپ نے کال دی ہے اس پر عمل درآمد ہوگا۔پاکستان میں آئین معطل ہے کوئی قانون نہیں۔پاکستان میں کینگرو کورٹس ہیں۔کیا چیف جسٹس آف پاکستان آئین اور قانون کے مطابق بنے ہیں۔ آئین توڑنے والے اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ہم نے کنٹینر تیار کیا ہے کنٹینر پر آزادی یا موت کا نعرہ لکھا گیا ہے۔احتجاج کے حوالے سے پارٹی فیصلہ کرے گی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App