ویب ڈیسک :نیپال کی حکومت نے کہا ہے کہ ستمبر میں بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے بڑے احتجاج، جنہیں ’جین زی پروٹسٹ‘ کہا جا رہا ہے، ملکی معیشت کو 586 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا۔
اس احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم کے پی شرما اوُلی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا،مشتعل مظاہرین نے سرکاری اور نجی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا تھا ۔
سرکاری بیان کے مطابق بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک اور بعد ازاں ہونے والی ہنگامہ آرائی میں 77 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
جین میں وزیراعظم آفس، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، صدارتی عمارت اور سنگھا دربار سمیت کئی اہم حکومتی و کاروباری عمارتیں شامل ہیں۔
عبوری وزیراعظم سوشیلا کرکی کے دفتر کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو پر 252 ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔
حکومت کے قائم کردہ ری کنسٹرکشن فنڈ میں اب تک عوام اور اداروں کی جانب سے صرف ایک ملین ڈالر سے کم رقم جمع ہو سکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بڑے سرکاری ڈھانچوں، جن میں سنگھا دربار، سپریم کورٹ، صدارتی عمارت اور کئی اہم وزارتیں شامل ہیں، کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔