ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس ،لاہور ہائیکورٹ کا لاہور کے 804 پارکوں کےحوالے سے واضح پالیسی بنانے کا حکم

 سموگ تدارک کیس ،لاہور ہائیکورٹ کا لاہور کے 804 پارکوں کےحوالے سے واضح پالیسی بنانے کا حکم
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ سمیت لاہور کے دیگر تاریخی مقامات پر نئے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسے منصوبے بغیر مناسب منصوبہ بندی کے شروع نہیں کیے جاسکتے.  یہ شہر کے تاریخی حسن کو متاثر کرسکتے ہیں۔ 

جسٹس شاہدکریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ناصرباغ، گورنمنٹ کالج اوراسی نوعیت کے تاریخی مقامات شہرکاچہرہ ہیں، ایل ڈی اےکوچاہیے کہ ان تاریخی اثاثوں کو خراب کرنے سے ہرممکن اجتناب کرے۔ اگر منصوبہ بندی مناسب نہ ہوئی تو عدالت کواسے روکنے پرمجبور ہونا پڑے گا۔ عدالت نےمزیدکہاکہ ناصرباغ منصوبے کےخلاف احتجاج کرنیوالےافراد سوسائٹی کے نمایاں اورباشعورطبقات سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سننا ضروری ہے۔

جسٹس شاہدکریم نےلاہورکے804 پارکس کے حوالے سے بھی واضح پالیسی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ جج نے ریمارکس دیئےانویسٹرزسے سرمایہ لیکر پارکس کی خوبصورتی پرخرچ کیا جاسکتا ہے، تاکہ شہریوں کو بہترماحول فراہم کیا جاسکے۔ 
جسٹس شاہد کریم نے شوگرملزسے متعلق حکم جاری کیا کہ تمام شوگرملزتین ماہ کے اندر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائیں، ورنہ ایسی ملز کو بند کیا جائےگا۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت، ایل ڈی اے، ہاؤسنگ اتھارٹی، واسا، ٹریفک پولیس، محکمہ ماحولیات سمیت مختلف محکموں کے نمائندگان پیش ہوئے۔

 

Ansa Awais

Content Writer