ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے بڑے شہر ممبئی میں اور مضافات میں اکثر گاڑی چلانے والے جن میں نوجوانوں کی گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے، ایل ای ڈی یا لیزر لائٹس لگاتے ہیں جسکی وجہ سے حادثات ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ممبئی ٹریفک پولیس نےشکایتیں موصول ہونے پرخصوصی مہم چلائی اور سیکڑوں افراد کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں روپے جرمانہ وصول کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریفک پولیس نے تیز روشنی والی لائٹس لگانے والوں کے خلاف موصولہ شکایت پرٹریفک پولیس کی 41 ڈیویژن کو کارروائی کرنے کا فرمان جاری کیا تھا۔ اس سلسلےمیں6 اگست تا 9اگست کے درمیان خصوصی مہم چلاتے ہوئے شہر اور مضافات میں ایک دو نہیں بلکہ ایک ہزار 194گاڑی مالکان کے خلاف گاڑیوں میں ایل ای ڈی، لیزر یا بہت تیز روشنی والی لائٹس کا استعمال کرنے پر کارروائی کی۔ اس دوران کی گئی کارروائی کے دوران گاڑی مالکان سے 7 لاکھ 50ہزار روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ بہت تیز لائٹس لگانے سے مخالف سمت میں گاڑی چلانے والے کو سامنے سے آتی ہوئی گاڑی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سےہونے والے حادثہ میں جانی اور مالی دونوں ہی نقصان ہوسکتا ہے۔
ممبئی ٹریفک پولیس نےگاڑیوں میں ہائی انٹینسٹی ڈسچارج(ایچ آئی ڈی) ہیڈلائٹس، فلیش لائٹس اور ایل ای ڈی و لیزرلائٹس لگانے کے خلاف مہاراشٹر موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کارروائی کی ہے۔ پولیس کے مطابق مہم کا بنیادی مقصد ان لائٹس کی وجہ سے ہونے والے حادثات کو روکنا تھا۔ ممبئی ٹریفک پولیس کے سینئر افسر کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں تیز روشنی والی لائٹس لگانے سے مخالف سمت سے آنے والے ڈرائیورکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا سکتا ہے، اس کی آنکھیں متاثر ہوسکتی ہیں، حادثہ کی شکل میں جانی اور مالی نقصان ہوسکتا ہے۔ پولیس نے اس ضمن میں کارروائی کے ساتھ گاڑی چلانے والوں سے کم روشنی والی جسے ’لوبیم ہیڈ لائٹس‘ کہا جاتا ہے، کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مذکورہ معاملہ میں قانونی کے مطابق سے پہلی بار تیز روشنی والی ہیڈ لائٹس لگانے پر5سو روپے جرمانہ وصول کیا جاسکتا ہے اور3 ماہ کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ دوسری بار وہی غلطی کرنے پر 10ہزار روپے جرمانہ اور 6ماہ کی قید بھی ہوسکتی ہے یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں ۔