ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سینیٹ اجلاس؛ اقلیتوں کے دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور

سینیٹ اجلاس؛ اقلیتوں کے دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : سینیٹ اجلاس میں اقلیتوں کے دن پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، اسلامی نظریاتی کونسل، معذور افراد کے حقوق بل پر فنگشنل کمیٹی انسانی حقوق پر رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔

 سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار نے اقلیتیوں کے متعلق قرار داد ایوان میں پیش کی، جس کے مطابق پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اقلیتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بانی پاکستان کا 11 اگست کا خطاب اقلیتوں کے حقوق کی پالیسی ہے، پاکستان کی اقلیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

 قرارداد کے متن کے مطابق اقلیتی کاکس قائم کرنے پر چیئرمین سینیٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اقدامات کرے،  حکومت بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق آگاہی مہم چلائے۔

علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل اور معذور افراد کے حقوق بل پر فنگشنل کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ پیش کی گئیں۔ اجلاس میں دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 بھی پیش کر دیا گیا، بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، دانش سکول بل متعقلہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اس کے علاوہ سینیٹ میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 بھی پیش کر دیا گیا، بل وفاقی وزیر جام کمال خان نے پیش کیا، سینیٹ نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، سینیٹ میں قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی صنفی برابری سے متعلق سال 2023 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

 وزیر قانون و انسانی حقوق نے دونوں رپورٹس ایوان میں پیش کیں۔ دورانِ اجلاس بی اے پی کے سینیٹر منظور کاکڑ نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس آدمی نے گولیاں ماری ہیں اس کو سزا ملنی چاہئے، سردار شیر باز اچکزئی علاقے کا سردار ہے، سردار کے پاس نہ ہی جرگہ آیا نہ ہی اس نے فیصلہ دیا، خاتون پہلے شادی شدہ تھی اور سولہ سترہ سالا بیٹا ہے۔ سردار شیر باز اچکزئی کو کیوں اٹھایا گیا؟ جس نے جرم کیا اس کی گرفتاری نہیں ہوئی، لڑکی کی والدہ کا بیان بھی آیا ہے اور دیگر قبائل کے بیان بھی آئے، انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔

 سینیٹر عرفان صدیقی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کو بولنے دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج کو گالیاں دے، 9 مئی کو 250 مقامات پر حملے ہوئے ہیں، 9 مئی کو ہم کہاں لے جائیں، کل اسد قیصر نے کہا کہ ہماری غلطی ہے کہ باجوہ صاحب کو توسیع دی، پی ٹی آئی کے غلطیوں کے انبار ہیں۔

 انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف بانی پی ٹی آئی کے پاس چل کر گئے تھے، بانی پی ٹی آئی کو سزا ہوئی ہے، احتجاج آپ کا حق ہے، پی ٹی آئی مان لے کہ فوج نے تنصیبات پر حملہ کر کے غلطی کی ہے، نواز شریف کو جب سزا ہوئی تو ہم نے جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کیا، ان میں سننے کا حوصلہ ہی نہیں۔

 علامہ راجہ ناصرعباس نے ایوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سال میں دس لاکھ سے زائد لوگ زیارات کیلئے جاتے ہیں، سیکورٹی کے نام پر بے جا گرفتاریاں ہو رہی ہیں، پنجاب میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں کہا گیا پیدل چل کر جانا بدعت ہے، لوگ پیدل جائیں گے، بے شک آپ انہیں جان سے مار دیں، ہمارے لوگوں کے نام شیڈول فور میں ڈالے جا رہے ہیں۔

 وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے علامہ راجہ ناصر عباس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آئی جی پنجاب سے آج بات کی کہ کیوں عملی اقدام نہیں ہے؟ زائرین یا جلوس کے شرکاء کی سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے، کورونا میں زیارات بند ہوئی تھیں، سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کچھ اقدام لیے گئے۔

 انھوں نے کہا کہ فرقہ واریت کی لڑائی میں ماضی میں بہت نقصان ہوا، مجالس کرنے اور مجالس میں جانے پر کوئی پابندی نہیں، زائرین کی روانگی کے حوالے سے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں تفصیلاً سب بتایا۔

 سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہاں بیوروکریسی کی کوئی جوابدہی نہیں، یہ مراعات دے رہے ہیں، بندر بانٹ ہو رہی ہے، پاکستان ری انشورنس کی بات ہو رہی ہے، 335 ملین کی بات ہو رہی تھی انکی مراعات کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا پبلک پیسہ ہے، پارلیمان کو ایمپاور کریں، تمام بورڈز کا آڈٹ ہونا چاہئے، یہ ہاؤس لوگوں کو اکاؤنٹیبل بھی کرے۔