آشابھوسلے کے مقبول گانے ’ دم مارو دم‘پر کیوں پابندی لگائی گئی۔ ۔جانئے
(ویب ڈیسک) بھارتی فلم انڈسٹری بالی ووڈ میں ’سروں کی آشا‘ کہی جانیوالی آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز سے ہندی سنیما کو لازوال گانے دیئے۔ ان کے گائے ہوئے گانےاور لاکھوں دلوں میں بسی ان کی آواز اب ہمیشہ آشا بھوسلے کی یاد دلاتی رہے گی۔تاہم آشا بھوسلے نے اپنے کیریئر میں کئی یادگار گانے گائے لیکن1971 میں ریلیز ہونے والا ان کا گانا’ دم مارو دم‘ سب سے زیادہ متنازع اور مشہور ہوا اور انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق گلوکارہ آشا بھوسلے کے گائے ہوئے گانے کبھی پرانے نہیں پڑتے بلکہ وقت کے ساتھ مزید نکھرتے جاتے ہیں۔ لاکھوں دلوں میں بسی ان کی آواز اب ہمیشہ آشا بھوسلے کی یاد دلاتی رہے گی۔ آج کا دن بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ میوزک انڈسٹری کے لیے بھی ایک سیاہ باب کی طرح ہے۔ سروں کی آشا دنیا سے کوچ کر گئی ہیں، وہ اپنے پیچھے بے شمار یادیں، سریلی آواز میں گائے گئے گانے اور ڈھیر سارے قصے چھوڑ گئی ہیں۔
بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے نے اپنے کیریئر میں کئی یادگار گانے گائے لیکن1971میں ریلیز ہونے والا ’ دم مارو دم‘ سب سے زیادہ متنازع اور مشہور گانا رہا۔ اس گانے پر بھارت کے سرکاری ریڈیو میں پابندی لگا دی گئی تھی اور دوردرشن نے اسے ہٹا دیا تھا، پھر بھی آشا بھوسلے کو اسی گانے کے لیے بہترین خاتون پلے بیک سنگر کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔فلم ’ہرے راما ہرے کرشنا‘ میں نغمہ’’ دم مارو دم‘ دیو آنند، زینت امان اور ممتاز کی اداکاری پر مشتمل اس آئیکونک گانے کو آر ڈی برمن نے موسیقی دی تھی اور آنند بخشی نے اس کے بول لکھے تھے۔ گانے میں زینت امان کو ہپی اسٹائل میں نشے والی چلم پیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ گانے کی دلکش دھن، بول اور بولڈ مناظر نے اسے فوری طور پر مقبول بنا دیا، لیکن ساتھ ہی یہ تنازع کا شکار بھی ہو گیا۔
یاد رہے کہ فلم ’ہرے راما ہرے کرشنا‘ کی ریلیز کے دوران اس وقت بھارت میں ہپی کلچر اور منشیات کی لت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ فلم کی کہانی کا بنیادی مقصد ہپی طرزِ زندگی اور نشے کی بری عادت پر طنز کرنا تھا۔ کہانی میں دیو آنند کا کردار اپنی بہن (زینت امان) کو ڈھونڈتے ہوئے کٹھمنڈو پہنچتا ہے، جہاں اس کی بہن مکمل طور پر نشے کی دنیا میں کھو چکی ہوتی ہے۔ فلم اس مسئلے کو اجاگر کرتی ہے لیکن ’ دم مارو دم‘گانے کی وجہ سے لوگوں نے اسے نشے کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کے مترادف قرار دیا۔کئی تنظیموں اور والدین نے اسے بھارتی ثقافت کے خلاف قرار دیا۔ تنازع اتنا بڑھ گیا کہ آل انڈیا ریڈیو نے اس گانے پر مکمل پابندی لگا دی۔ جب فلم دوردرشن پر نشر ہوئی تو ’ دم مارو دم‘ کو مکمل طور پر کاٹ دیا گیا۔ ٹی وی نشریات کے دوران اس گانے کو ہٹا دیا گیا۔
بھارت میں تنازع کے باوجود آشا بھوسلے کی منفرد آواز اور گانے کی مقبولیت نے اپنا جادو دکھایا۔ آشا بھوسلے کو اسی گانے کے لیے فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین پلے بیک سنگر ملا۔ یہ ان کے کیریئر کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ گانے کی دھن آج بھی اتنی مقبول ہے کہ نوجوان نسل اسے سنتی اور گنگناتی ہے۔