ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آبنائے ہرمز پر ڈیڈلاک، مذاکرات بغیر نتیجہ ختم

آبنائے ہرمز پر ڈیڈلاک، مذاکرات بغیر نتیجہ ختم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی واضح نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوگئے، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا یاسلامی جمہوریہ ایران کی نشریات (IRIB) کے مطابق امریکا کے "غیر معقول مطالبات"مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنے، جس کے باعث پیش رفت نہ ہو سکی۔

دوسری جانب امریکی مؤقف ہے کہ انہوں نے لچک اور تعاون کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی نائب صدر ے ڈی وینس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ  کی ہدایت پر وہ نیک نیتی سے آئے، ایک سادہ اور حتمی پیشکش بھی دی، مگر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد واضح کیا کہ طویل بات چیت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا اور امریکا"بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہا ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال امریکا کے مقابلے میں ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح یقین دہانی نہیں ملی، جبکہ امریکی شرائط بھی قبول نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب مذاکرات میں آبنائے ہرمز  ایک اہم اور متنازع نکتہ بن کر سامنے آئی، جس پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارےتسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ ایران کسی جلدی میں نہیں ہے اور اب "گیند امریکا کے کورٹ میں ہے"۔

 ان کے مطابق ایران نے مذاکرات میں معقول تجاویز پیش کیں اور اب امریکا کو حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

ذرائع نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مذاکرات میں بھی وہی غلط اندازے لگائے جو جنگ کے دوران لگائے گئے تھے، جب تک امریکا ایک"مناسب معاہدے"پر آمادہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

امریکی مؤقف میں بھی ابہام دیکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق صدرڈونلڈ ٹڑمپ نے حالیہ دنوں میں متضاد بیانات دیے۔ ایک موقع پر انہوں نے آبنائے ہرمز کو غیر اہم قرار دیا، جبکہ بعد میں اسے مذاکرات کی بنیادی شرط قرار دے دیا۔

اسی دوران امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے دعویٰ کیا کہ اس کے بحری جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے آبنائے ہرمز سے گزرے، تاہم ایران نے اس دعوے پر اختلاف کیا ہے۔